صحیح بخاری حدیث ۷۰۲۸ - جہنم سے پناہ اور نماز کی ترغیب
خواب میں جہنم سے پناہ اور نماز کی کثرت کا پیغام
صحیح بخاری : ۷۰۲۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۰۲۸
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ، قَالَ : " إِنَّ رِجَالًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانُوا يَرَوْنَ الرُّؤْيَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَيَقُصُّونَهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَيَقُولُ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَاءَ اللَّهُ ، وَأَنَا غُلَامٌ حَدِيثُ السِّنِّ وَبَيْتِي الْمَسْجِدُ قَبْلَ أَنْ أَنْكِحَ ، فَقُلْتُ فِي نَفْسِي : لَوْ كَانَ فِيكَ خَيْرٌ لَرَأَيْتَ مِثْلَ مَا يَرَى هَؤُلَاءِ ، فَلَمَّا اضْطَجَعْتُ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، قُلْتُ : اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ فِيَّ خَيْرًا فَأَرِنِي رُؤْيَا ، فَبَيْنَمَا أَنَا كَذَلِكَ إِذْ جَاءَنِي مَلَكَانِ فِي يَدِ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِقْمَعَةٌ مِنْ حَدِيدٍ يُقْبِلَانِ بِي إِلَى جَهَنَّمَ وَأَنَا بَيْنَهُمَا أَدْعُو اللَّهَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ جَهَنَّمَ ، ثُمَّ أُرَانِي لَقِيَنِي مَلَكٌ فِي يَدِهِ مِقْمَعَةٌ مِنْ حَدِيدٍ ، فَقَالَ : لَنْ تُرَاعَ ، نِعْمَ الرَّجُلُ أَنْتَ لَوْ كُنْتَ تُكْثِرُ الصَّلَاةَ ، فَانْطَلَقُوا بِي حَتَّى وَقَفُوا بِي عَلَى شَفِيرِ جَهَنَّمَ ، فَإِذَا هِيَ مَطْوِيَّةٌ كَطَيِّ الْبِئْرِ لَهُ قُرُونٌ كَقَرْنِ الْبِئْرِ بَيْنَ كُلِّ قَرْنَيْنِ مَلَكٌ بِيَدِهِ مِقْمَعَةٌ مِنْ حَدِيدٍ وَأَرَى فِيهَا رِجَالًا مُعَلَّقِينَ بِالسَّلَاسِلِ رُءُوسُهُمْ أَسْفَلَهُمْ عَرَفْتُ فِيهَا رِجَالًا مِنْ قُرَيْشٍ ، فَانْصَرَفُوا بِي عَنْ ذَاتِ الْيَمِينِ ،
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کچھ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں خواب دیکھتے تھے اور اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تعبیر دیتے جیسا کہ اللہ چاہتا۔ میں اس وقت نوعمر تھا اور میرا گھر مسجد تھی یہ میری شادی سے پہلے کی بات ہے۔ میں نے اپنے دل میں سوچا کہ اگر تجھ میں کوئی خیر ہوتی تو تو بھی ان لوگوں کی طرح خواب دیکھتا۔ چنانچہ جب میں ایک رات لیٹا تو میں نے کہا: اے اللہ! اگر تو میرے اندر کوئی خیر و بھلائی جانتا ہے تو مجھے کوئی خواب دکھا۔میں اسی حال میں (سو گیا اور میں نے دیکھا کہ) میرے پاس دو فرشتے آئے، ان میں سے ہر ایک کے ہاتھ میں لوہے کا ہتھوڑا تھا اور وہ مجھے جہنم کی طرف لے چلے۔ میں ان دونوں فرشتوں کے درمیان میں تھا اور اللہ سے دعا کرتا جا رہا تھا کہ اے اللہ! میں جہنم سے تیری پناہ مانگتا ہوں پھر مجھے دکھایا گیا (خواب ہی میں) کہ مجھ سے ایک اور فرشتہ ملا جس کے ہاتھ میں لوہے کا ایک ہتھوڑا تھا اور اس نے کہا ڈرو نہیں تم کتنے اچھے آدمی ہو اگر تم نماز زیادہ پڑھتے۔چنانچہ وہ مجھے لے کر چلے اور جہنم کے کنارے پر لے جا کر مجھے کھڑا کر دیا تو جہنم ایک گول کنویں کی طرح تھی اور کنویں کے مٹکوں کی طرح اس کے بھی مٹکے تھے اور ہر دو مٹکوں کے درمیان ایک فرشتہ تھا۔ جس کے ہاتھ میں لوہے کا ایک ہتھوڑا تھا اور میں نے اس میں کچھ لوگ دیکھے جنہیں زنجیروں میں لٹکا دیا گیا تھا اور ان کے سر نیچے تھے۔ (اور پاؤں اوپر) ان میں سے بعض قریش کے لوگوں کو میں نے پہچانا بھی، پھر وہ مجھے دائیں طرف لے کر چلے۔
صحیح بخاری حدیث ۷۰۲۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے خواب، جہنم سے پناہ، اور نماز کی ترغیب کا ذکر ہے۔ وہ نوجوان تھے، مسجد میں رہتے تھے، اور صحابہ کو خواب بیان کرتے دیکھتے تھے۔ انہوں نے اللہ سے دعا کی کہ اگر ان میں خیر ہو تو انہیں بھی خواب دکھایا جائے۔ خواب میں دو فرشتے انہیں جہنم کی طرف لے گئے، اور وہ دعا کرتے رہے: اے اللہ! میں جہنم سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ پھر ایک فرشتے نے کہا کہ ڈرو نہیں، تم اچھے آدمی ہو، اگر تم نماز زیادہ پڑھتے۔ اس حدیث کا اصل پیغام یہی ہے کہ نیکی کے ساتھ نماز کی کثرت، خاص طور پر نفل نماز، بندے کے لیے بہت بڑی بھلائی ہے۔ یہ متن خواب کی تعبیر، جہنم سے پناہ، اور نماز کی حدیث کے طور پر پڑھا جاتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ سے جہنم کی پناہ مانگنا اس خواب میں بار بار ذکر ہوا ہے۔
- فرشتے کے قول میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کی بھلائی کے ساتھ نماز بڑھانے کی ترغیب آئی۔
- صحابہ اپنے خواب نبی کریم صلى الله عليه وسلم سے بیان کرتے تھے تاکہ درست تعبیر ملے۔
