صحیح بخاری حدیث ۷۰۲۹ - رات کی نماز اور نیک آدمی
رات کی نماز: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے لیے نبوی ترغیب
صحیح بخاری : ۷۰۲۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۰۲۹
فَقَصَصْتُهَا عَلَى حَفْصَةَ ، فَقَصَّتْهَا حَفْصَةُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ رَجُلٌ صَالِحٌ لَوْ كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ " ، فَقَالَ نَافِعٌ : فَلَمْ يَزَلْ بَعْدَ ذَلِكَ يُكْثِرُ الصَّلَاةَ .
´بعد میں، میں نے اس کا ذکر اپنی بہن حفصہ رضی اللہ عنہا سے کیا اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے،` آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ (سن کر) فرمایا، عبداللہ مرد نیک ہے، (اگر رات کو تہجد پڑھتا ہوتا) نافع کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے جب سے یہ خواب دیکھا وہ نفل نماز بہت پڑھا کرتے تھے۔ مٹکے جن پر موٹھ کی لکڑیاں کھڑی کرتے ہیں۔
صحیح بخاری حدیث ۷۰۲۹ کا خلاصہ
یہ روایت پچھلے خواب کے نتیجے کو صاف کرتی ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنا خواب اپنی بہن حفصہ رضی اللہ عنہا کو بتایا، اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عبداللہ نیک آدمی ہے، اگر رات کو نماز پڑھتا۔ نافع کہتے ہیں کہ اس کے بعد عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نفل نماز بہت پڑھنے لگے۔ اس حدیث میں تہجد کی ترغیب، نفل نماز، اور نیک آدمی کی خوبی سامنے آتی ہے۔ بات بہت سیدھی ہے: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کی نماز کی طرف اشارہ فرمایا تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے عملی طور پر اپنا لیا۔ اس لیے یہ حدیث رات کی نماز کی فضیلت کے باب میں خاص طور پر مفید ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی ترغیب کو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے عمل میں بدل دیا۔
- رات کی نماز اس روایت میں نیک آدمی کے لیے مزید خیر کے طور پر آئی ہے۔
- خواب کا ذکر نبی کریم صلى الله عليه وسلم تک پہنچا تو اس سے عملی نصیحت سامنے آئی۔
