صحیح بخاری حدیث ۷۰۳۰ - خواب کی تعبیر اور جہنم کا منظر

ابن عمر رضی اللہ عنہما کا خواب: جہنم، فرشتے اور خیر کی امید

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۰۳۰

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " كُنْتُ غُلَامًا شَابًّا عَزَبًا فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكُنْتُ أَبِيتُ فِي الْمَسْجِدِ ، وَكَانَ مَنْ رَأَى مَنَامًا قَصَّهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ لِي عِنْدكَ خَيْرٌ فَأَرِنِي مَنَامًا يُعَبِّرُهُ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنِمْتُ ، فَرَأَيْتُ مَلَكَيْنِ أَتَيَانِي فَانْطَلَقَا بِي فَلَقِيَهُمَا مَلَكٌ آخَرُ ، فَقَالَ لِي : لَنْ تُرَاعَ ، إِنَّكَ رَجُلٌ صَالِحٌ ، فَانْطَلَقَا بِي إِلَى النَّارِ فَإِذَا هِيَ مَطْوِيَّةٌ كَطَيِّ الْبِئْرِ وَإِذَا فِيهَا نَاسٌ قَدْ عَرَفْتُ بَعْضَهُمْ ، فَأَخَذَا بِي ذَاتَ الْيَمِينِ ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ ، ذَكَرْتُ ذَلِكَ لِحَفْصَةَ .

ابن عمر روایت:

میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں نوجوان غیر شادی شدہ تھا تو مسجد نبوی میں سوتا تھا اور جو شخص بھی خواب دیکھتا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کرتا۔ میں نے سوچا: اے اللہ! اگر تیرے نزدیک مجھ میں کوئی خیر ہے تو مجھے بھی کوئی خواب دکھا جس کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے تعبیر دیں۔پھر میں سویا اور میں نے دو فرشتے دیکھے جو میرے پاس آئے اور مجھے لے چلے۔ پھر ان دونوں سے تیسرا فرشتہ بھی آ ملا اور اس نے مجھ سے کہا کہ ڈرو نہیں تم نیک آدمی ہو۔ پھر وہ دونوں فرشتے مجھے جہنم کی طرف لے گئے تو وہ کنویں کی طرح تہ بتہ تھی اور اس میں کچھ لوگ تھے جن میں سے بعض کو میں نے پہچانا بھی، پھر وہ دونوں فرشتے مجھے دائیں طرف لے چلے، جب صبح ہوئی تو میں نے اس تذکرہ اپنی بہن حفصہ رضی اللہ عنہا سے کیا۔

صحیح بخاری حدیث ۷۰۳۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں وہی واقعہ دوسرے انداز سے آیا ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نوجوان اور غیر شادی شدہ تھے، مسجد نبوی میں سوتے تھے، اور چاہتے تھے کہ انہیں بھی کوئی خواب دکھایا جائے جس کی تعبیر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں۔ انہوں نے دعا کی، پھر خواب میں دو فرشتے آئے اور انہیں لے چلے۔ ایک اور فرشتے نے کہا کہ ڈرو نہیں، تم نیک آدمی ہو۔ پھر انہیں جہنم دکھائی گئی، جس کی شکل کنویں کی طرح تہ بہ تہ تھی، اور اس میں کچھ لوگ تھے جن میں سے بعض کو انہوں نے پہچانا۔ صبح انہوں نے یہ خواب حفصہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا۔ اس روایت میں خواب کی تعبیر، مسجد نبوی میں رہنا، جہنم سے ڈر، اور نیکی کے ساتھ نماز کی طرف اشارہ ملتا ہے، مگر متن میں تفصیل اتنی ہی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • خواب میں ڈر کے وقت اللہ کی پناہ اور خیر کی امید دونوں پہلو سامنے آتے ہیں۔
  • ابن عمر رضی اللہ عنہما نے خواب کو خود عام نہیں کیا بلکہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا۔
  • فرشتے کے الفاظ میں انہیں نیک آدمی کہا گیا، جو روایت کا بنیادی حصہ ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں