صحیح بخاری حدیث ۷۰۳۱ - تہجد اور عمل میں اضافہ

تہجد کی ترغیب: نیکی کو عمل سے بڑھانا

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۰۳۱

فَزَعَمَتْ حَفْصَةُ أَنَّهَا قَصَّتْهَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ رَجُلٌ صَالِحٌ لَوْ كَانَ يُكْثِرُ الصَّلَاةَ مِنَ اللَّيْلِ " ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بَعْدَ ذَلِكَ يُكْثِرُ الصَّلَاةَ مِنَ اللَّيْلِ .

‏‏‏‏ ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا نے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس خواب کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عبداللہ نیک مرد ہے۔ کاش وہ رات میں نماز زیادہ پڑھا کرتا۔ زہری نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے بعد وہ رات میں نفلی نماز زیادہ پڑھا کرتے تھے۔

صحیح بخاری حدیث ۷۰۳۱ کا خلاصہ

یہ روایت خواب کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تبصرے کو بیان کرتی ہے۔ ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کا خواب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عبداللہ نیک مرد ہے، کاش وہ رات میں نماز زیادہ پڑھتا۔ زہری کے بیان کے مطابق اس کے بعد عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما رات میں نفل نماز زیادہ پڑھنے لگے۔ اس حدیث کا اصل موضوع تہجد، نفل نماز، اور نیکی کے بعد عمل میں اضافہ ہے۔ یہاں کوئی لمبی فقہی بحث نہیں، بلکہ ایک صاف عملی اشارہ ہے: جب خیر کی بات ملے تو بندہ اسے اپنی زندگی میں شامل کرے۔ رات کی نماز کی حدیث اور تہجد کی فضیلت کے لیے یہ روایت بہت واضح الفاظ دیتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی نصیحت کے بعد ابن عمر رضی اللہ عنہما نے رات کی نماز زیادہ کر دی۔
  • نیک آدمی بھی اپنے عمل میں مزید بہتری لا سکتا ہے۔
  • اس روایت میں تہجد کی ترغیب مختصر مگر صاف الفاظ میں آئی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں