صحیح بخاری حدیث ۷۰۵۸ - قریش کے نوجوانوں سے امت کا فتنہ

فتنہ قیادت: قریش کے چند نوجوانوں کے بارے میں حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۰۵۸

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي جَدِّي ، قَالَ : " كُنْتُ جَالِسًا مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي مَسْجِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ وَمَعَنَا مَرْوَانُ ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : سَمِعْتُ الصَّادِقَ الْمَصْدُوقَ ، يَقُولُ : " هَلَكَةُ أُمَّتِي عَلَى يَدَيْ غِلْمَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ " ، فَقَالَ مَرْوَانُ : لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ غِلْمَةً ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : لَوْ شِئْتُ أَنْ أَقُولَ بَنِي فُلَانٍ وَبَنِي فُلَانٍ لَفَعَلْتُ ، فَكُنْتُ أَخْرُجُ مَعَ جَدِّي إِلَى بَنِي مَرْوَانَ حِينَ مُلِّكُوا بِالشَّأْمِ ، فَإِذَا رَآهُمْ غِلْمَانًا أَحْدَاثًا ، قَالَ لَنَا : عَسَى هَؤُلَاءِ أَنْ يَكُونُوا مِنْهُمْ ، قُلْنَا : أَنْتَ أَعْلَمُ .

سعید روایت:

میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس مدینہ منورہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں بیٹھا تھا اور ہمارے ساتھ مروان بھی تھا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے صادق و مصدوق سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کی تباہی قریش کے چند لڑکوں کے ہاتھ سے ہو گی۔مروان نے اس پر کہا ان پر اللہ کی لعنت ہو۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر میں ان کے خاندان کے نام لے کر بتلانا چاہوں تو بتلا سکتا ہوں۔ پھر جب بنی مروان شام کی حکومت پر قابض ہو گئے تو میں اپنے دادا کے ساتھ ان کی طرف جاتا تھا۔ جب وہاں انہوں نے نوجوان لڑکوں کو دیکھا تو کہا کہ شاید یہ انہی میں سے ہوں۔ ہم نے کہا کہ آپ کو زیادہ علم ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۷۰۵۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ انہوں نے صادق و مصدوق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: میری امت کی تباہی قریش کے چند لڑکوں کے ہاتھ سے ہو گی۔ مروان نے اس پر سخت الفاظ کہے، اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر میں ان کے خاندانوں کے نام لینا چاہوں تو لے سکتا ہوں۔ پھر راوی نے ذکر کیا کہ جب بنی مروان شام کی حکومت پر قابض ہوئے اور نوجوان لڑکوں کو دیکھا گیا تو ان کے بارے میں احتمال ظاہر کیا گیا۔ اس حدیث کا اصل موضوع فتنہ قیادت ہے۔ روایت میں کسی عام نوجوان کی مذمت نہیں، بلکہ خاص سیاسی اور حکومتی فتنہ کی خبر ہے۔ اس لیے بات کو روایت کے دائرے میں رکھنا ضروری ہے۔ یہ حدیث بتاتی ہے کہ قیادت کا معاملہ معمولی نہیں، اور نااہل یا کم عمر اقتدار امت کے لیے آزمائش بن سکتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قیادت اور حکومت کا معاملہ امت پر اثر ڈالتا ہے۔
  • حدیث میں خاص فتنہ کی خبر دی گئی ہے، عام نوجوانوں کی مذمت نہیں۔
  • سیاسی طاقت اگر نااہل ہاتھوں میں آ جائے تو امت کے لیے آزمائش بن سکتی ہے۔
  • غیبی خبروں میں احتیاط سے بات کرنی چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں