صحیح بخاری حدیث ۷۰۵۹ - یاجوج ماجوج اور برائی کی کثرت
یاجوج ماجوج کی حدیث: جب برائی بڑھ جائے
صحیح بخاری : ۷۰۵۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۰۵۹
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ الزُّهْرِيَّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ ، أَنَّهَا قَالَتْ : اسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ النَّوْمِ مُحْمَرًّا وَجْهُهُ ، يَقُولُ : " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ ، فُتِحَ الْيَوْمَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِثْلُ هَذِهِ ، وَعَقَدَ سُفْيَانُ تِسْعِينَ أَوْ مِائَةً ، قِيلَ : أَنَهْلِكُ وَفِينَا الصَّالِحُونَ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ، إِذَا كَثُرَ الْخَبَثُ " .
زینب بنت جحش روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نیند سے بیدار ہوئے تو آپ کا چہرہ سرخ تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ عربوں کی تباہی اس بلا سے ہو گی جو قریب ہی آ لگی ہے۔ آج یاجوج ماجوج کی دیوار میں سے اتنا سوراخ ہو گیا اور سفیان نے نوے یا سو کے عدد کے لیے انگلی باندھی پوچھا گیا کیا ہم اس کے باوجود ہلاک ہو جائیں گے کہ ہم میں صالحین بھی ہوں گے؟ فرمایا ہاں! جب برائی بڑھ جائے گی (تو ایسا ہی ہو گا)۔
صحیح بخاری حدیث ۷۰۵۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نیند سے بیدار ہوئے، چہرہ سرخ تھا، اور آپ فرما رہے تھے: اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، عربوں کی تباہی اس بلا سے ہو گی جو قریب آ لگی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ آج یاجوج ماجوج کی دیوار میں اتنا سوراخ ہو گیا، اور انگلی سے اشارہ کیا۔ پوچھا گیا کہ کیا ہم ہلاک ہو جائیں گے حالانکہ ہم میں صالح لوگ بھی ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، جب برائی بڑھ جائے گی۔ اس حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ معاشرے میں برائی کی کثرت خطرناک ہے۔ صرف نیک لوگوں کی موجودگی کا ذکر آیا، مگر جواب میں برائی کے پھیلنے کو سبب بتایا گیا۔ یہ حدیث اجتماعی اصلاح کی فکر پیدا کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- یاجوج ماجوج کا فتنہ حدیث میں قریب آنے والی بلا کے طور پر ذکر ہوا ہے۔
- برائی کی کثرت معاشرے کے لیے خطرے کا سبب بن سکتی ہے۔
- نیک لوگوں کی موجودگی کے باوجود عام برائی کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔
- اجتماعی حالات پر دینی فکر رکھنا ضروری ہے۔
