صحیح بخاری حدیث ۷۰۷۲ - ہتھیار سے اشارہ کرنے کی ممانعت
ہتھیار سے اشارہ نہ کرو: مسلمان بھائی کی حفاظت
صحیح بخاری : ۷۰۷۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۰۷۲
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ هَمَّامٍ ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يُشِيرُ أَحَدُكُمْ عَلَى أَخِيهِ بِالسِّلَاحِ ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي لَعَلَّ الشَّيْطَانَ يَنْزِعُ فِي يَدِهِ فَيَقَعُ فِي حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ " .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کوئی شخص اپنے کسی دینی بھائی کی طرف ہتھیار سے اشارہ نہ کرے کیونکہ وہ نہیں جانتا ممکن ہے شیطان اسے اس کے ہاتھ سے چھڑوا دے اور پھر وہ کسی مسلمان کو مار کر اس کی وجہ سے جہنم کے گڑھے میں گر پڑے۔“
صحیح بخاری حدیث ۷۰۷۲ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع احتیاط اور مسلمان بھائی کی جان کی حفاظت ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ کوئی شخص اپنے دینی بھائی کی طرف ہتھیار سے اشارہ نہ کرے۔ وجہ یہ بتائی گئی کہ وہ نہیں جانتا، شاید شیطان اس کے ہاتھ سے اسے چھڑوا دے، پھر وہ کسی مسلمان کو مار بیٹھے اور جہنم کے گڑھے میں گر پڑے۔ یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ ہتھیار کو مذاق، کھیل یا غصے میں بھی ہلکا نہیں لینا چاہیے۔ مسلمان بھائی کی طرف ہتھیار سے اشارہ کرنا، خطرہ پیدا کرنا اور شیطان کو موقع دینا سب نقصان کی راہ ہیں۔ متن کا پیغام سادہ ہے: جان کی حفاظت میں معمولی بے احتیاطی بھی بڑی مصیبت بن سکتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کسی مسلمان بھائی کی طرف ہتھیار سے اشارہ نہیں کرنا چاہیے۔
- شیطان انسان کو اچانک غلط کام پر لگا سکتا ہے۔
- جان کے معاملے میں مذاق یا بے احتیاطی کی گنجائش نہیں۔
- مسلمان کو دوسرے مسلمان کی حفاظت کا خیال رکھنا چاہیے۔
