صحیح بخاری حدیث ۷۱۱۶ - شرک کی واپسی
ذوالخلصہ اور قیامت سے پہلے شرک کی علامت
صحیح بخاری : ۷۱۱۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۱۱۶
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، أَخْبَرَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَضْطَرِبَ أَلَيَاتُ نِسَاءِ دَوْسٍ عَلَى ذِي الْخَلَصَةِ " ، وَذُو الْخَلَصَةِ : طَاغِيَةُ دَوْسٍ الَّتِي كَانُوا يَعْبُدُونَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت قائم نہیں ہو گی یہاں تک کہ قبیلہ دوس کی عورتوں کا ذوالخلصہ کا (طواف کرتے ہوئے) چوتڑ سے چوتڑ چھلے اور ذوالخلصہ قبیلہ دوس کا بت تھا جس کو وہ زمانہ جاہلیت میں پوجا کرتے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۷۱۱۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں قیامت کی ایک خاص نشانی بیان ہوئی ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ قیامت قائم نہ ہو گی یہاں تک کہ قبیلہ دوس کی عورتیں ذوالخلصہ کے گرد حرکت کریں گی۔ روایت میں خود وضاحت موجود ہے کہ ذوالخلصہ قبیلہ دوس کا وہ بت تھا جسے وہ جاہلیت میں پوجا کرتے تھے۔ اس لیے اس حدیث کا اصل موضوع شرک، جاہلیت کے بت، قیامت کی نشانی اور دینی بگاڑ ہے۔ اسے ذوالخلصہ کی حدیث، قبیلہ دوس کی عورتیں، قیامت کی علامات اور بت پرستی کی واپسی کے الفاظ سے تلاش کیا جاتا ہے۔ متن ہمیں صرف اتنا بتاتا ہے کہ ایک زمانے میں جاہلیت کے ایک بت کے ساتھ دوبارہ ایسا معاملہ ہو گا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ذوالخلصہ جاہلیت کے زمانے میں قبیلہ دوس کا بت تھا۔
- حدیث میں قیامت سے پہلے اس بت کے گرد جانے کا ذکر ہے۔
- شرک اور جاہلیت کے طریقوں سے بچنا ایمان کا بنیادی تقاضا ہے۔
- روایت قیامت کی نشانیوں میں دینی بگاڑ کا ایک پہلو بیان کرتی ہے۔
