صحیح بخاری حدیث ۷۱۵۱ - حاکم کی خیانت کی وعید
حاکم کی خیانت: رعایا کے حق کی سخت حدیث
صحیح بخاری : ۷۱۵۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۱۵۱
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا حُسَيْنٌ الْجُعْفِيُّ ، قَالَ زَائِدَةُ ، ذَكَرَهُ عَنْ هِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : أَتَيْنَا مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ نَعُودُهُ ، فَدَخَلَ عَلَيْنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، فَقَالَ لَهُ مَعْقِلٌ : أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " مَا مِنْ وَالٍ يَلِي رَعِيَّةً مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَيَمُوتُ وَهُوَ غَاشٌّ لَهُمْ إِلَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ " .
حسن روایت:
ہم معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے ان کے پاس گئے پھر عبیداللہ بھی آئے تو معقل رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ میں تم سے ایک ایسی حدیث بیان کرتا ہوں جسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص مسلمانوں کا حاکم بنایا گیا اور اس نے ان کے معاملہ میں خیانت کی اور اسی حالت میں مر گیا تو اللہ تعالیٰ اس پر جنت کو حرام کر دیتا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۷۱۵۱ کا خلاصہ
یہ حدیث مسلمانوں کے حاکم کی ذمہ داری کو بہت صاف انداز میں بیان کرتی ہے۔ معقل بن یسار رضی اللہ عنہ نے عبیداللہ کو بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: جو شخص مسلمانوں کا حاکم بنایا گیا، پھر اس نے ان کے معاملے میں خیانت کی اور اسی حالت میں مر گیا، تو اللہ تعالیٰ اس پر جنت کو حرام کر دیتا ہے۔ اس حدیث میں لفظ خیانت بہت اہم ہے۔ حاکم کو لوگوں کے دین، جان، مال اور عمومی معاملات میں امانت دار ہونا چاہیے۔ یہاں بات صرف انتظامی کمزوری کی نہیں، بلکہ دھوکے اور بدخواہی کی ہے۔ رعایا کی امانت میں خیانت آخرت کا سنگین معاملہ ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حکومت امانت ہے، ذاتی فائدے کا ذریعہ نہیں۔
- رعایا کے ساتھ خیانت سخت وعید کا سبب ہے۔
- مسلمانوں کے معاملات سنبھالنے والا شخص جواب دہ ہے۔
- اختیار ملنے کے بعد امانت داری اور خیر خواہی ضروری ہے۔
