صحیح بخاری حدیث ۷۱۵۲ - ریاکاری، تکلیف اور پاک رزق

ریاکاری کی حدیث: دکھاوے، تکلیف اور ناحق خون سے بچاؤ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۱۵۲

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ طَرِيفٍ أَبِي تَمِيمَةَ ، قَالَ : شَهِدْتُ صَفْوَانَ ، وَجُنْدَبًا وَأَصْحَابَهُ وَهُوَ يُوصِيهِمْ ، فَقَالُوا : هل سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا ؟ ، قَالَ : سَمِعْتُهُ ، يَقُولُ : " مَنْ سَمَّعَ سَمَّعَ اللَّهُ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، قَالَ : وَمَنْ يُشَاقِقْ يَشْقُقِ اللَّهُ عَلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَقَالُوا : أَوْصِنَا ، فَقَالَ : إِنَّ أَوَّلَ مَا يُنْتِنُ مِنَ الْإِنْسَانِ بَطْنُهُ ، فَمَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ لَا يَأْكُلَ إِلَّا طَيِّبًا فَلْيَفْعَلْ ، وَمَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ لَا يُحَالَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجَنَّةِ بِمِلْءِ كَفِّهِ مِنْ دَمٍ أَهْرَاقَهُ فَلْيَفْعَلْ " ، قُلْتُ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ : مَنْ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، جُنْدَبٌ ، قَالَ : نَعَمْ جُنْدَبٌ .

ظریف ابوتمیمہ روایت:

میں صفوان اور جندب اور ان کے ساتھیوں کے پاس موجود تھا۔ صفوان اپنے ساتھیوں (شاگردوں) کو وصیت کر رہے تھے، پھر (صفوان اور ان کے ساتھیوں نے جندب رضی اللہ عنہ سے) پوچھا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ سنا ہے؟انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے سنا ہے کہ جو لوگوں کو ریاکاری کے طور پر دکھانے کے لیے کام کرے گا اللہ قیامت کے دن اس کی ریاکاری کا حال لوگوں کو سنا دے گا اور فرمایا کہ جو لوگوں کو تکلیف میں مبتلا کرے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے تکلیف میں مبتلا کرے گا، پھر ان لوگوں نے کہا کہ ہمیں کوئی وصیت کیجئے۔انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے انسان کے جسم میں اس کا پیٹ سڑتا ہے پس جو کوئی طاقت رکھتا ہو کہ پاک و طیب کے سوا اور کچھ نہ کھائے تو اسے ایسا ہی کرنا چاہئے اور جو کوئی طاقت رکھتا ہو وہ چلو بھر لہو بہا کر (یعنی ناحق خون کر کے) اپنے آپ کو بہشت میں جانے سے روکے۔ جریری کہتے ہیں کہ میں نے ابوعبداللہ سے پوچھا، کون صاحب اس حدیث میں یہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا؟ کیا جندب کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ ہاں وہی کہتے ہیں۔

صحیح بخاری حدیث ۷۱۵۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں کئی واضح نصیحتیں جمع ہیں۔ جندب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو دکھاوے کے لیے کام کرے گا، اللہ قیامت کے دن اس کی ریاکاری ظاہر فرما دے گا۔ جو لوگوں کو تکلیف میں ڈالے گا، اللہ اسے قیامت کے دن تکلیف میں ڈالے گا۔ پھر انہوں نے وصیت کی کہ انسان کے جسم میں سب سے پہلے پیٹ سڑتا ہے، اس لیے جس کے لیے ممکن ہو وہ پاک اور طیب چیز ہی کھائے۔ آخر میں ناحق خون سے بچنے کی سخت تنبیہ ہے۔ اس حدیث کا موضوع ریاکاری، پاک رزق اور ظلم سے بچنا ہے۔ یہ انسان کو ظاہر، خوراک اور دوسروں کے حق تینوں میں محتاط بناتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دکھاوے کے لیے نیک عمل کرنا خطرناک ہے۔
  • لوگوں کو تکلیف دینا قیامت کے حساب کا سبب بن سکتا ہے۔
  • پاک اور طیب غذا اختیار کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
  • ناحق خون بہانا جنت سے محرومی کا سبب بن سکتا ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں