صحیح بخاری حدیث ۷۱۵۳ - جس سے محبت ہو اسی کے ساتھ
تم اسی کے ساتھ ہو گے جس سے محبت رکھتے ہو
صحیح بخاری : ۷۱۵۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۱۵۳
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " بَيْنَمَا أَنَا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَارِجَانِ مِنَ الْمَسْجِدِ ، فَلَقِيَنَا رَجُلٌ عِنْدَ سُدَّةِ الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَتَى السَّاعَةُ ؟ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا أَعْدَدْتَ لَهَا ؟ ، فَكَأَنَّ الرَّجُلَ اسْتَكَانَ ، ثُمَّ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا أَعْدَدْتُ لَهَا كَبِيرَ صِيَامٍ ، وَلَا صَلَاةٍ ، وَلَا صَدَقَةٍ ، وَلَكِنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، قَالَ : أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ " .
انس بن مالک روایت:
میں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد سے نکل رہے تھے کہ ایک شخص مسجد کی چوکھٹ پر آ کر ہم سے ملا اور دریافت کیا: یا رسول اللہ! قیامت کب ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم نے قیامت کے لیے کیا تیاری کی ہے؟“اس پر وہ شخص خاموش سا ہو گیا، پھر اس نے کہا: یا رسول اللہ! میں نے بہت زیادہ روزے، نماز اور صدقہ قیامت کے لیے نہیں تیار کئے ہیں لیکن میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم اس کے ساتھ ہو گے جس سے تم محبت رکھتے ہو۔“
صحیح بخاری حدیث ۷۱۵۳ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہے۔ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ قیامت کب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں وقت بتانے کے بجائے پوچھا کہ تم نے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے؟ اس شخص نے کہا کہ میں نے بہت زیادہ روزے، نماز اور صدقہ تیار نہیں کیے، لیکن میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس کے ساتھ ہو گے جس سے تم محبت رکھتے ہو۔ یہ حدیث قیامت کے سوال کو عمل اور محبت کی طرف موڑتی ہے۔ اس میں محبت کا دعویٰ بھی سنجیدہ بات ہے، کیونکہ بات اللہ اور رسول سے محبت کی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قیامت کا سوال صرف وقت جاننے کا نہیں، تیاری کا سوال ہے۔
- اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت بڑی نعمت ہے۔
- انسان کی محبت اس کے انجام سے تعلق رکھتی ہے۔
- اپنے اعمال اور دل کی وابستگی دونوں کا جائزہ لینا چاہیے۔
