صحیح بخاری حدیث ۷۱۵۵ - خدمت اور انتظامی ذمہ داری
قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کی خدمت اور انتظامی ذمہ داری
صحیح بخاری : ۷۱۵۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۱۵۵
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ الذُّهْلِيُّ ، حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ ثُمَامَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : إِنَّ قَيْسَ بْنَ سَعْدٍ كَانَ يَكُونُ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمَنْزِلَةِ صَاحِبِ الشُّرَطِ مِنَ الْأَمِيرِ " .
انس بن مالک روایت:
قیس بن سعد رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس طرح رہتے تھے جیسے امیر کے ساتھ کوتوال رہتا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۷۱۵۵ کا خلاصہ
یہ مختصر حدیث قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کی خدمت اور انتظامی حیثیت کو بیان کرتی ہے۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قیس بن سعد رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس طرح رہتے تھے جیسے امیر کے ساتھ کوتوال یا انتظامی ذمہ دار رہتا ہے۔ اس روایت میں کوئی لمبی تفصیل نہیں دی گئی، اس لیے اس سے صرف اتنی بات لی جائے گی جتنی متن میں موجود ہے۔ قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب رہنا خدمت، نظم اور حفاظت کے انداز کو ظاہر کرتا ہے۔ امارت اور انتظام کے باب میں یہ روایت بتاتی ہے کہ ذمہ داری نبھانے کے لیے حاضر رہنا، ساتھ دینا اور خدمت کرنا بھی اہم ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صحابہ کی خدمت کے مختلف انداز تھے۔
- انتظامی خدمت بھی ایک ذمہ دارانہ کام ہے۔
- ذمہ داری کے لیے موجود رہنا اور ساتھ دینا اہم ہے۔
- حدیث کے متن سے زیادہ دعویٰ نہیں کرنا چاہیے۔
