صحیح بخاری حدیث ۷۱۵۶ - ذمہ داری کے لیے بھیجنا

ابوموسیٰ اور معاذ رضی اللہ عنہما کو بھیجنے کی روایت

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۱۵۶

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى هُوَ الْقَطَّانُ ، عَنْ قُرَّةَ بْنِ خَالِدٍ ، حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، أَن النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " بَعَثَهُ وَأَتْبَعَهُ بِمُعَاذٍ " .

ابوموسیٰ روایت:

´ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے قرہ نے، ان سے حمید بن ہلال نے، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھیجا تھا اور ان کے ساتھ معاذ رضی اللہ عنہ کو بھی بھیجا تھا۔

صحیح بخاری حدیث ۷۱۵۶ کا خلاصہ

یہ حدیث بہت مختصر ہے۔ اس میں ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے بارے میں آیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھیجا اور ان کے ساتھ معاذ رضی اللہ عنہ کو بھی بھیجا۔ چونکہ متن میں جگہ، کام کی پوری تفصیل یا حکم کی مکمل وضاحت نہیں دی گئی، اس لیے بات کو اسی حد تک رکھنا چاہیے۔ اس روایت کا موضوع ذمہ داری کے لیے اہل لوگوں کو روانہ کرنا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو مختلف کاموں کے لیے بھیجا، اور یہاں دو جلیل القدر صحابہ کا ذکر ہے۔ اس سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ دینی اور انتظامی کاموں میں افراد کو ذمہ داری دے کر بھیجا جاتا تھا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دینی کاموں کے لیے ذمہ دار افراد کو بھیجا جا سکتا ہے۔
  • اہل افراد کو ساتھ بھیجنا انتظامی حکمت کا حصہ ہے۔
  • حدیث کے مختصر متن سے صرف اتنی ہی بات لینی چاہیے جتنی بیان ہوئی ہے۔
  • صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ذمہ داریوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معاون تھے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں