صحیح بخاری حدیث ۷۱۵۷ - ارتداد کا قضائی معاملہ
ارتداد کے قضائی معاملے کی حدیث
صحیح بخاری : ۷۱۵۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۱۵۷
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا مَحْبُوبُ بْنُ الْحَسَنِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، أَنَّ رَجُلًا أَسْلَمَ ، ثُمَّ تَهَوَّدَ ، فَأَتَى مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَهُوَ عِنْدَ أَبِي مُوسَى ، فَقَالَ : مَا لِهَذَا ؟ ، قَالَ : " أَسْلَمَ ثُمَّ تَهَوَّدَ ، قَالَ : لَا أَجْلِسُ حَتَّى أَقْتُلَهُ قَضَاءُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
ابوموسیٰ روایت:
ایک شخص اسلام لایا پھر یہودی ہو گیا پھر معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ آئے اور وہ شخص ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس تھا۔ انہوں نے پوچھا اس کا کیا معاملہ ہے؟ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ اسلام لایا پھر یہودی ہو گیا، پھر انہوں نے کہا کہ جب تک میں اسے قتل نہ کر لو نہیں بیٹھوں گا، یہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۷۱۵۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایک خاص واقعہ بیان ہوا ہے۔ ایک شخص اسلام لایا، پھر یہودی ہو گیا۔ جب معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ آئے تو وہ شخص ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس تھا۔ معاذ رضی اللہ عنہ نے اس کے بارے میں پوچھا، تو بتایا گیا کہ وہ اسلام لایا تھا پھر یہودی ہو گیا۔ اس پر انہوں نے کہا کہ جب تک میں اسے قتل نہ کر لوں نہیں بیٹھوں گا، یہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ ہے۔ یہ روایت ایک قضائی اور حکومتی ماحول کا واقعہ بیان کرتی ہے۔ علمائے کرام کے مطابق ایسے معاملات عام افراد کے ذاتی اقدام کا موضوع نہیں، بلکہ شرعی عدالت اور بااختیار نظام سے متعلق ہوتے ہیں۔ متن سے اصل سبق یہ ہے کہ دین بدلنے کے معاملے کو نہایت سنجیدہ سمجھا گیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اسلام لانے کے بعد دین چھوڑنے کا معاملہ حدیث میں بہت سنگین آیا ہے۔
- یہ واقعہ صحابہ کے قضائی ماحول میں پیش آیا۔
- علمائے کرام کے مطابق ایسے معاملات ذاتی اقدام کے بجائے بااختیار قضا سے متعلق ہیں۔
- حدیث کے متن کو جذباتی یا ذاتی کارروائی کی بنیاد نہیں بنانا چاہیے۔
