صحیح بخاری حدیث ۷۱۵۹ - امام نماز مختصر پڑھائے

امام نماز مختصر پڑھائے: جماعت کی آسانی والی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۱۵۹

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " إِنِّي وَاللَّهِ لَأَتَأَخَّرُ عَنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ مِنْ أَجْلِ فُلَانٍ مِمَّا يُطِيلُ بِنَا فِيهَا ، قَالَ : فَمَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطُّ أَشَدَّ غَضَبًا فِي مَوْعِظَةٍ مِنْهُ يَوْمَئِذٍ ، ثُمَّ قَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ مِنْكُمْ مُنَفِّرِينَ ، فَأَيُّكُمْ مَا صَلَّى بِالنَّاسِ فَلْيُوجِزْ ، فَإِنَّ فِيهِمُ الْكَبِيرَ وَالضَّعِيفَ وَذَا الْحَاجَةِ " .

ابومسعود انصاری روایت:

ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں واللہ صبح کی جماعت میں فلاں (امام معاذ بن جبل یا ابی بن کعب رضی اللہ عنہما) کی وجہ سے شرکت نہیں کر پاتا کیونکہ وہ ہمارے ساتھ اس نماز کو بہت لمبی کر دیتے ہیں۔ ابومسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وعظ و نصیحت کے وقت اس سے زیادہ غضب ناک ہوتا کبھی نہیں دیکھا جیسا کہ آپ اس دن تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے لوگو! تم میں سے بعض نمازیوں کو نفرت دلانے والے ہیں، پس تم میں سے جو شخص بھی لوگوں کو نماز پڑھائے اسے اختصار کرنا چاہئے کیونکہ جماعت میں بوڑھے، بچے اور ضرورت مند سب ہی ہوتے ہیں۔“

صحیح بخاری حدیث ۷۱۵۹ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی موضوع جماعت کی نماز میں آسانی ہے۔ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ وہ صبح کی جماعت سے پیچھے رہ جاتا ہے کیونکہ امام نماز بہت لمبی کر دیتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس بات پر سخت ناراض ہوئے اور فرمایا کہ تم میں سے بعض لوگ نمازیوں کو نفرت دلانے والے ہیں۔ پھر فرمایا کہ جو شخص لوگوں کو نماز پڑھائے وہ اختصار کرے، کیونکہ جماعت میں بوڑھے، بچے اور ضرورت مند ہوتے ہیں۔ اس حدیث میں امام کے لیے بہت واضح اصول ہے کہ جماعت کی نماز میں لوگوں کی حالت دیکھی جائے۔ اکیلا آدمی چاہے تو اپنی نماز لمبی کر سکتا ہے، مگر جماعت میں آسانی مقدم ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • امام کو جماعت کی نماز بہت لمبی نہیں کرنی چاہیے۔
  • نمازیوں میں کمزور، بوڑھے، بچے اور ضرورت مند لوگ ہو سکتے ہیں۔
  • دینی عمل میں لوگوں کو نفرت دلانے سے بچنا چاہیے۔
  • قیادت کا مطلب لوگوں کی حالت کا خیال رکھنا ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں