صحیح بخاری حدیث ۷۱۷۹ - دورخا شخص بدترین

دورخا شخص کی حدیث: ایک چہرہ یہاں، دوسرا وہاں

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۱۷۹

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عِرَاكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : "إِنَّ شَرَّ النَّاسِ ذُو الْوَجْهَيْنِ ، الَّذِي يَأْتِي هَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ وَهَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ " .

ابوہریرہ روایت:

´ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے یزید بن ابی حبیب نے، ان سے عراک نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ` انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بدترین وہ شخص دورخا ہے، کسی کے سامنے اس کا ایک رخ ہوتا ہے اور دوسرے کے سامنے دوسرا رخ برتتا ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۷۱۷۹ کا خلاصہ

اس حدیث کا موضوع دو رخا پن ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ بدترین شخص وہ دورخا ہے جو ایک گروہ کے سامنے ایک رخ لے کر آتا ہے اور دوسرے گروہ کے سامنے دوسرا رخ رکھتا ہے۔ یہ حدیث بہت سادہ اور براہ راست ہے۔ اس میں کسی پیچیدہ بحث کی ضرورت نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ انسان اپنی بات، تعلق اور موقف میں اتنا بدلتا رہے کہ ہر جگہ الگ چہرہ دکھائے تو یہ قابل مذمت عمل ہے۔ دورخا شخص کی حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ زبان کی سچائی صرف جھوٹ نہ بولنے تک محدود نہیں، بلکہ ایک جیسے کردار اور صاف رویے سے بھی تعلق رکھتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دورخا شخص کو حدیث میں بدترین لوگوں میں بتایا گیا ہے۔
  • ہر گروہ کے سامنے الگ چہرہ رکھنا مذموم عمل ہے۔
  • انسان کے قول اور رویے میں سچائی ہونی چاہیے۔
  • تعلقات میں منافقت کے بجائے صاف گوئی بہتر ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں