صحیح بخاری حدیث ۷۱۸۱ - حق تلفی کا خطرہ
مقدمے میں چرب زبانی: حق نہیں تو فیصلہ بھی خطرہ ہے
صحیح بخاری : ۷۱۸۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۱۸۱
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَال : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَخْبَرَتْهَا ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ " سَمِعَ خُصُومَةً بِبَابِ حُجْرَتِهِ فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ ، فَقَالَ : إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَإِنَّهُ يَأْتِينِي الْخَصْمُ ، فَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَبْلَغَ مِنْ بَعْضٍ ، فَأَحْسِبُ أَنَّهُ صَادِقٌ فَأَقْضِي لَهُ بِذَلِكَ ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِحَقِّ مُسْلِمٍ ، فَإِنَّمَا هِيَ قِطْعَةٌ مِنَ النَّارِ فَلْيَأْخُذْهَا ، أَوْ لِيَتْرُكْهَا " .
ام سلمہ روایت:
´ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے صالح نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں عروہ بن زبیر نے خبر دی، انہیں زینب بنت ابی سلمہ نے خبر دی اور` انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی۔ آپ نے اپنے حجرہ کے دروازے پر جھگڑے کی آواز سنی تو باہر ان کی طرف نکلے۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں بھی ایک انسان ہوں اور میرے پاس لوگ مقدمے لے کر آتے ہیں۔ ممکن ہے ان میں سے ایک فریق دوسرے فریق سے بولنے میں زیادہ عمدہ ہو اور میں یقین کر لوں کی وہی سچا ہے اور اس طرح اس کے موافق فیصلہ کر دوں۔ پس جس شخص کے لیے بھی میں کسی مسلمان کا حق دلا دوں تو وہ جہنم کا ایک ٹکڑا ہے وہ چاہے اسے لے یا چھوڑ دے، میں اس کو درحقیقت دوزخ کا ایک ٹکڑا دلا رہا ہوں۔
صحیح بخاری حدیث ۷۱۸۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع حق تلفی اور عدالتی فیصلہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حجرے کے دروازے پر جھگڑے کی آواز سنی تو باہر تشریف لائے اور فرمایا کہ میں بھی انسان ہوں، لوگ میرے پاس مقدمے لاتے ہیں، ممکن ہے ایک فریق دوسرے سے زیادہ عمدہ بولنے والا ہو اور میں سمجھوں کہ وہی سچا ہے، پھر اس کے حق میں فیصلہ کر دوں۔ پھر فرمایا کہ جس کے لیے میں کسی مسلمان کا حق دلا دوں تو وہ جہنم کا ایک ٹکڑا ہے، چاہے اسے لے یا چھوڑ دے۔ اس حدیث میں بہت واضح سبق ہے کہ فیصلہ حاصل کر لینا کافی نہیں اگر حق حقیقت میں اپنا نہ ہو۔ جھوٹا مقدمہ، غلط دعویٰ اور زبان کی چالاکی انسان کے لیے سخت نقصان بن سکتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مقدمے میں خوبصورت بات کرنا حق کی ضمانت نہیں۔
- کسی مسلمان کا حق غلط طریقے سے لینا سخت خطرہ ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلے کو سنی ہوئی بات کے مطابق بتایا۔
- آدمی کو اپنا حقیقی حق ہی لینا چاہیے۔
