صحیح بخاری حدیث ۷۱۸۸ - سخت جھگڑالو شخص کی مذمت
سخت جھگڑالو شخص کی حدیث: ضد اور کٹ حجتی سے بچیں
صحیح بخاری : ۷۱۸۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۱۸۸
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ ، يُحَدِّثُ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَبْغَضُ الرِّجَالِ إِلَى اللَّهِ الْأَلَدُّ الْخَصِمُ " .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ کے نزدیک سب سے مبغوض وہ شخص ہے جو سخت جھگڑالو ہو۔“
صحیح بخاری حدیث ۷۱۸۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں بہت مختصر مگر سخت تنبیہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے نزدیک سب سے مبغوض شخص وہ ہے جو سخت جھگڑالو ہو۔ یہاں اصل بات جھگڑا، ضد، کٹ حجتی، اور بلا ضرورت بحث سے متعلق ہے۔ حدیث یہ نہیں کہتی کہ حق بات کہنا منع ہے، بلکہ اس میں ایسے مزاج کی مذمت ہے جو ہر معاملے کو لڑائی، ضد اور سخت بحث بنا دے۔ عام زندگی میں بھی بعض لوگ بات کو سمجھنے کے بجائے جیتنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس حدیث کا پیغام ہے کہ مسلمان کو گفتگو میں نرمی، انصاف اور سچائی رکھنی چاہیے۔ سخت جھگڑالو شخص کی حدیث ہمیں یاد دلاتی ہے کہ زبان کا استعمال دین، اخلاق اور تعلقات پر اثر ڈالتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بلا ضرورت جھگڑا ناپسندیدہ عمل ہے۔
- ضد اور کٹ حجتی انسان کو بری عادت میں ڈال دیتی ہے۔
- حق بات بھی اچھے انداز سے کہنی چاہیے۔
- مسلمان کو گفتگو میں نرمی اور انصاف رکھنا چاہیے۔
