صحیح بخاری حدیث ۷۲۰۵ - عبدالملک کے لیے اطاعت کا اقرار
بیعت کا تحریری اقرار: دین و سنت کے مطابق اطاعت
صحیح بخاری : ۷۲۰۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۲۰۵
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ : " لَمَّا بَايَعَ النَّاسُ عَبْدَ الْمَلِكِ ، كَتَبَ إِلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ عَبْدِ الْمَلِكِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ ، إِنِّي أُقِرُّ بِالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ لِعَبْدِ اللَّهِ عَبْدِ الْمَلِكِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى سُنَّةِ اللَّهِ وَسُنَّةِ رَسُولِهِ فِيمَا اسْتَطَعْتُ ، وَإِنَّ بَنِيَّ قَدْ أَقَرُّوا بِذَلِكَ " .
عبداللہ بن دینار روایت:
جب لوگوں نے عبدالملک کی بیعت کی تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے لکھا ”اللہ کے بندے عبدالملک امیرالمؤمنین کے نام، میں اقرار کرتا ہوں سننے اور اطاعت کرنے کی۔ اللہ کے بندے عبدالملک امیرالمؤمنین کے لیے اللہ کے دین اور اس کے رسول کی سنت کے مطابق، جتنی مجھ میں طاقت ہو گی اور میرے بیٹوں نے بھی اس کا اقرار کیا۔“
صحیح بخاری حدیث ۷۲۰۵ کا خلاصہ
اس اثر میں بیان ہے کہ جب لوگوں نے عبدالملک کی بیعت کی تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے لکھا کہ وہ اللہ کے بندے عبدالملک امیرالمؤمنین کے لیے سننے اور اطاعت کرنے کا اقرار کرتے ہیں، اللہ کے دین اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق، جتنی ان میں طاقت ہو گی۔ انہوں نے یہ بھی لکھا کہ ان کے بیٹوں نے بھی اس کا اقرار کیا۔ یہ روایت بیعت، اطاعت، تحریری اقرار، استطاعت، اور سنت کے دائرے کو بیان کرتی ہے۔ اس میں اصل زور اس بات پر ہے کہ اطاعت اندھی یا بے حد نہیں، بلکہ اللہ کے دین اور رسول کی سنت کے مطابق ہے، اور انسان کی طاقت کے مطابق ہے۔ یہ اثر نظم اور شرعی حد دونوں کو ساتھ رکھتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اطاعت کو اللہ کے دین اور رسول کی سنت کے ساتھ مشروط کیا گیا۔
- انسان اپنی طاقت کے مطابق عہد کا اقرار کرتا ہے۔
- تحریری اقرار بھی بیعت کے اظہار کی صورت بن سکتا ہے۔
- عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے بیٹوں کے اقرار کا بھی ذکر کیا۔
