صحیح بخاری حدیث ۷۲۰۶ - صلح حدیبیہ میں موت پر بیعت
بیعتِ حدیبیہ کی حدیث: موت تک وفاداری کا عہد
صحیح بخاری : ۷۲۰۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۲۰۶
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِسَلَمَةَ : " عَلَى أَيِّ شَيْءٍ بَايَعْتُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ ؟ ، قَالَ : عَلَى الْمَوْتِ " .
یزید روایت:
میں نے سلمہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا آپ لوگوں نے صلح حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کس بات پر بیعت کی تھی؟ انہوں نے کہا کہ موت پر۔
صحیح بخاری حدیث ۷۲۰۶ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع بیعت ہے، خاص طور پر صلح حدیبیہ کے موقع کی بیعت۔ سلمہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ آپ لوگوں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے کس بات پر بیعت کی تھی؟ انہوں نے صاف جواب دیا: موت پر۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس موقع پر معمولی وعدہ نہیں کیا تھا، بلکہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے ساتھ آخری حد تک ثابت قدم رہنے کا عہد کیا تھا۔ بیعتِ حدیبیہ کی حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ دینی عہد کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ یہاں اصل بات وفاداری، جرأت اور رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے حکم کے ساتھ مضبوط تعلق ہے۔ اس روایت میں کسی اضافی شرط یا تفصیل کا ذکر نہیں، اس لیے بات کو اسی حد تک رکھنا درست ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے ساتھ صحابہ کی بیعت انتہائی مضبوط عہد پر مبنی تھی۔
- دینی عہد میں ثابت قدمی اور وفاداری اہم ہے۔
- صلح حدیبیہ کے موقع پر صحابہ نے خطرے کے باوجود پیچھے ہٹنے کا ارادہ نہیں کیا۔
