صحیح بخاری حدیث ۷۲۰۸ - درخت کے نیچے بیعت کا واقعہ

درخت کے نیچے بیعت: اطاعت اور عہد کی تاکید

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۲۰۸

حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ سَلَمَةَ ، قَالَ : " بَايَعْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ ، فَقَالَ لِي : يَا سَلَمَةُ ، أَلَا تُبَايِعُ ؟ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ بَايَعْتُ فِي الْأَوَّلِ ، قَالَ : وَفِي الثَّانِي " .

سلمہ روایت:

ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخت کے نیچے بیعت کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا ”سلمہ! کیا تم بیعت نہیں کرو گے؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے پہلی ہی مرتبہ میں بیعت کر لی ہے، فرمایا کہ اور دوسری مرتبہ میں بھی کر لو۔“

صحیح بخاری حدیث ۷۲۰۸ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی موضوع درخت کے نیچے بیعت ہے۔ سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے نبی کریم صلى الله عليه وسلم سے درخت کے نیچے بیعت کی۔ پھر نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے ان سے فرمایا: سلمہ! کیا تم بیعت نہیں کرو گے؟ انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں پہلے ہی بیعت کر چکا ہوں۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ دوسری مرتبہ بھی کر لو۔ اس روایت میں بیعتِ رضوان، اطاعت رسول اور عہد کی تاکید کا پہلو سامنے آتا ہے۔ حدیث میں صرف اتنی بات آئی ہے کہ سلمہ رضی اللہ عنہ نے پہلی بیعت کا ذکر کیا اور پھر آپ صلى الله عليه وسلم کے کہنے پر دوسری بار بھی بیعت کی۔ اس لیے اس سے یہی سادہ سبق لیا جائے گا کہ دینی عہد میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے حکم کو مقدم رکھا جاتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • صحابہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے حکم پر دوبارہ بھی بیعت کے لیے تیار تھے۔
  • بیعت صرف رسمی عمل نہیں، بلکہ عہد کی تازگی اور تاکید بھی ہے۔
  • اطاعت رسول صلى الله عليه وسلم صحابہ کی عملی زندگی کا نمایاں پہلو تھی۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں