صحیح بخاری حدیث ۷۲۱۰ - کمسن بچے کی بیعت اور دعا

کمسن بچے کی بیعت: نبی صلى الله عليه وسلم کی شفقت اور دعا

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۲۱۰

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ هُوَ ابْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو عَقِيلٍ زُهْرَةُ بْنُ مَعْبَدٍ ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هِشَامٍ ، وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَذَهَبَتْ بِهِ أُمُّهُ زَيْنَبُ بِنْتُ حُمَيْدٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بَايِعْهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هُوَ صَغِيرٌ ، فَمَسَحَ رَأْسَهُ ، وَدَعَا لَهُ ، وَكَانَ يُضَحِّي بِالشَّاةِ الْوَاحِدَةِ عَنْ جَمِيعِ أَهْلِهِ " .

ابوعقیل زہرہ بن معبد روایت:

´ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبداللہ بن یزید نے بیان کیا، ان سے سعید ابن ابی ایوب نے بیان کیا، ان سے ابوعقیل زہرہ بن معبد نے بیان کیا` انہوں نے اپنے دادا عبداللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پایا تھا اور ان کی والدہ زینب بنت حمید ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے کر حاضر ہوئی تھیں اور عرض کیا تھا یا رسول اللہ! اس سے بیعت لے لیجئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ابھی کمسن ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور ان کے لیے دعا فرمائی اور اپنے تمام گھر والوں کی طرف سے ایک ہی بکری قربانی کیا کرتے تھے۔

صحیح بخاری حدیث ۷۲۱۰ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی موضوع کمسن بچے کی بیعت ہے۔ عبداللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ کی والدہ انہیں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے پاس لے کر آئیں اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اس سے بیعت لے لیجئے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ یہ ابھی کمسن ہے۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور اس کے لیے دعا فرمائی۔ روایت کے آخر میں یہ بھی آیا کہ عبداللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ اپنے تمام گھر والوں کی طرف سے ایک ہی بکری قربانی کیا کرتے تھے۔ اس حدیث میں بچوں کے ساتھ نبی صلى الله عليه وسلم کی نرمی، دعا اور دینی ذمہ داری میں عمر کا لحاظ صاف نظر آتا ہے۔ یہاں اصل بات یہ ہے کہ کمسنی کی وجہ سے بیعت نہ لی گئی، مگر شفقت اور دعا ضرور فرمائی گئی۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • کمسن بچے پر بڑوں جیسی دینی ذمہ داری نہیں ڈالی گئی۔
  • نبی کریم صلى الله عليه وسلم بچوں کے ساتھ شفقت فرماتے اور ان کے لیے دعا کرتے تھے۔
  • دینی معاملات میں عمر اور سمجھ کا لحاظ رکھا جاتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں