صحیح بخاری حدیث ۷۲۱۱ - بیعت فسخ کرنے کی درخواست
بیعت فسخ کرنے کی حدیث: عہد کو ہلکا نہ سمجھیں
صحیح بخاری : ۷۲۱۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۲۱۱
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، " أَنَّ أَعْرَابِيًّا بَايَع رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْإِسْلَامِ ، فَأَصَابَ الْأَعْرَابِيَّ وَعْكٌ بِالْمَدِينَةِ ، فَأَتَى الْأَعْرَابِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَقِلْنِي بَيْعَتِي ، فَأَبَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ جَاءَهُ ، فَقَالَ : أَقِلْنِي بَيْعَتِي ، فَأَبَى ، ثُمَّ جَاءَهُ ، فَقَالَ : أَقِلْنِي بَيْعَتِي ، فَأَبَى ، فَخَرَجَ الْأَعْرَابِيُّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّمَا الْمَدِينَةُ كَالْكِيرِ تَنْفِي خَبَثَهَا وَيَنْصَعُ طِيبُهَا " .
جابر بن عبداللہ روایت:
ایک دیہاتی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام پر بیعت کی پھر اسے مدینہ میں بخار ہو گیا تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ یا رسول اللہ! میری بیعت فسخ کر دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کیا پھر وہ دوبارہ آیا اور کہا کہ میری بیعت فسخ کر دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرتبہ بھی انکار کیا پھر وہ آیا اور بیعت فسخ کرنے کا مطالبہ کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرتبہ بھی انکار کیا۔اس کے بعد وہ خود ہی (مدینہ سے) چلا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ مدینہ بھٹی کی طرح ہے اپنی میل کچیل کو دور کر دیتا ہے اور خالص مال رکھ لیتا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۷۲۱۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع بیعت کی پابندی ہے۔ ایک دیہاتی نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے اسلام پر بیعت کی۔ پھر مدینہ میں اسے بخار ہو گیا۔ وہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے پاس آیا اور کہا: یا رسول اللہ! میری بیعت فسخ کر دیجئے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے انکار فرمایا۔ وہ دوبارہ آیا، پھر تیسری بار بھی یہی درخواست کی، مگر ہر بار نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے انکار فرمایا۔ آخر وہ خود ہی مدینہ سے چلا گیا۔ اس پر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ مدینہ بھٹی کی طرح ہے، اپنی میل کچیل کو دور کر دیتا ہے اور خالص مال کو رکھ لیتا ہے۔ اس روایت میں اسلام پر بیعت، مدینہ، بخار اور عہد کی پابندی کا ذکر ہے۔ بات صاف ہے کہ دینی عہد کو وقتی تکلیف کی بنیاد پر ختم نہیں کیا جاتا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اسلام پر بیعت ایک سنجیدہ وعدہ ہے۔
- وقتی تکلیف کی وجہ سے دینی عہد کو کمزور نہیں سمجھنا چاہیے۔
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے مدینہ کو ایسی بھٹی سے تشبیہ دی جو ناپاکی الگ کر دیتی ہے۔
- بیعت توڑنے کی بار بار درخواست قبول نہیں کی گئی۔
