صحیح بخاری حدیث ۷۲۲۹ - حج میں ہدی اور احرام کا حکم

حج اور ہدی کی حدیث: احرام کھولنے کا مسئلہ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۲۲۹

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ ، أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا سُقْتُ الْهَدْيَ وَلَحَلَلْتُ مَعَ النَّاسِ حِينَ حَلُّوا " .

عائشہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (حجتہ الوداع کے موقع پر) فرمایا ”اگر مجھ کو اپنا حال پہلے سے معلوم ہوتا جو بعد کو معلوم ہوا تو میں اپنے ساتھ قربانی کا جانور نہ لاتا اور عمرہ کر کے دوسرے لوگوں کی طرح بھی احرام کھول ڈالتا۔“

صحیح بخاری حدیث ۷۲۲۹ کا خلاصہ

یہ حدیث حج، عمرہ، ہدی اور احرام کے بارے میں ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اگر پہلے وہ بات معلوم ہوتی جو بعد میں معلوم ہوئی تو آپ صلى الله عليه وسلم اپنے ساتھ قربانی کا جانور نہ لاتے اور عمرہ کر کے دوسرے لوگوں کی طرح احرام کھول دیتے۔ اس حدیث کا تعلق اسی واقعے سے ہے جو حجتہ الوداع کے موقع پر پیش آیا۔ متن میں اصل بات یہ ہے کہ جس کے ساتھ ہدی ہو، اس کا حکم دوسرے لوگوں سے الگ ہو سکتا ہے۔ اس میں نبی صلى الله عليه وسلم کی امت کے لیے آسانی کی چاہت بھی دکھائی دیتی ہے۔ حدیث سے حج کے اعمال میں ہدی کے اثر کو سمجھا جا سکتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حج کے احکام میں ہدی ساتھ ہونے یا نہ ہونے کا اثر ہوتا ہے۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے امت کے لیے آسانی کو پسند فرمایا۔
  • احرام سے متعلق عمل علم اور حالت کے مطابق ہوتا ہے۔
  • دینی عمل میں بعد میں معلوم ہونے والی بات پر افسوس نہیں بلکہ حکم کی پیروی اہم ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں