صحیح بخاری حدیث ۷۲۲۸ - احد کے برابر سونا بھی راہِ خیر میں
صدقہ اور مال کی حدیث: احد پہاڑ کے برابر سونا بھی خرچ ہو
صحیح بخاری : ۷۲۲۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۲۲۸
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ هَمَّامٍ ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَوْ كَانَ عِنْدِي أُحُدٌ ذَهَبًا ، لَأَحْبَبْتُ أَنْ لَا يَأْتِيَ عَلَيَّ ثَلَاثٌ وَعِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ لَيْسَ شَيْءٌ أَرْصُدُهُ فِي دَيْنٍ عَلَيَّ أَجِدُ مَنْ يَقْبَلُهُ " .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر میرے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہوتا تو میں پسند کرتا کہ اگر ان کے لینے والے مل جائیں تو تین دن گزرنے سے پہلے ہی میرے پاس اس میں سے ایک دینار بھی نہ بچے، سوا اس کے جسے میں اپنے اوپر قرض کی ادائیگی کے لیے روک لوں۔“
صحیح بخاری حدیث ۷۲۲۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں مال، صدقہ اور قرض کی ادائیگی کا بہت صاف پیغام ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اگر آپ صلى الله عليه وسلم کے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو تو آپ صلى الله عليه وسلم پسند کریں گے کہ تین دن گزرنے سے پہلے اس میں سے ایک دینار بھی باقی نہ رہے، بشرطیکہ لینے والے موجود ہوں۔ صرف وہ مال الگ رکھا جائے گا جو قرض ادا کرنے کے لیے ضروری ہو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مال کو مقصد نہیں بنانا چاہیے، بلکہ اسے اچھے کام میں خرچ کرنا چاہیے۔ ساتھ ہی قرض کو بھی نظر انداز نہیں کیا گیا۔ حدیث میں سخاوت، ذمہ داری، حق دار تک مال پہنچانا، اور قرض کی ادائیگی کا مضبوط سبق موجود ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مال کو نیکی کے کاموں میں خرچ کرنے کی رغبت ہونی چاہیے۔
- قرض کی ادائیگی کو صدقہ کے جذبے کے ساتھ بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
- سخاوت کا مطلب بے ترتیبی نہیں، بلکہ حق دار کو دینا ہے۔
- مال باقی رکھنے کے بجائے اسے فائدہ مند جگہ لگانا بہتر ہے۔
