صحیح بخاری حدیث ۷۲۳۸ - حد میں گواہی کی اہمیت
گواہی اور حد کی حدیث: بغیر دلیل کے سزا نہیں
صحیح بخاری : ۷۲۳۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۲۳۸
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : ذَكَرَ ابْنُ عَبَّاسٍ الْمُتَلَاعِنَيْنِ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ : أَهِيَ الَّتِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ كُنْتُ رَاجِمًا امْرَأَةً مِنْ غَيْرِ بَيِّنَةٍ ؟ ، قَالَ : لَا تِلْكَ امْرَأَةٌ أَعْلَنَتْ " .
قاسم بن محمد روایت:
ابن عباس رضی اللہ عنہما نے دو لعان کرنے والوں کا ذکر کیا تو اس پر عبداللہ بن شداد نے پوچھا: کیا یہی وہ ہیں جن کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ”اگر میں کسی عورت کو بغیر گواہ کے رجم کر سکتا تو اسے کرتا۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نہیں وہ ایک (اور) عورت تھی جو (اسلام لانے کے بعد) کھلے عام (فحش کام) کرتی تھی۔
صحیح بخاری حدیث ۷۲۳۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے لعان کرنے والے دو افراد کا ذکر کیا۔ عبداللہ بن شداد نے پوچھا کہ کیا یہی وہ عورت ہے جس کے بارے میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر میں کسی عورت کو بغیر گواہ کے رجم کر سکتا تو اسے کرتا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا کہ نہیں، وہ ایک اور عورت تھی جو کھلے عام فحش کام کرتی تھی۔ اس حدیث سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ سنگین معاملے میں صرف شہرت یا شبہ کافی نہیں، گواہی اور دلیل کا اعتبار ہے۔ متن کا مرکزی موضوع گواہی، حد، لعان اور شرعی احتیاط ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سنگین سزا کے لیے گواہی اور دلیل کی اہمیت ہے۔
- لعان اور کسی دوسری عورت کے واقعے کو آپس میں نہیں ملانا چاہیے۔
- شبہ یا بدنامی کو شرعی ثبوت کے برابر نہیں سمجھنا چاہیے۔
- حدیث کے واقعات کو الگ الگ سمجھنا ضروری ہے۔
