صحیح بخاری حدیث ۷۲۷۵ - رسول صلى الله عليه وسلم اور ابوبکر کی پیروی
سنت کی پیروی کی حدیث: رسول صلى الله عليه وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کا طریقہ
صحیح بخاری : ۷۲۷۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۲۷۵
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبَّاسٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ وَاصِلٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ : جَلَسْتُ إِلَى شَيْبَةَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ قَالَ : جَلَسَ إِلَيَّ عُمَرُ فِي مَجْلِسِكَ هَذَا ، فَقَالَ : " لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أَدَعَ فِيهَا صَفْرَاءَ وَلَا بَيْضَاءَ ، إِلَّا قَسَمْتُهَا بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ ، قُلْتُ : مَا أَنْتَ بِفَاعِل ، قَالَ : لِمَ قُلْتُ لَمْ يَفْعَلْهُ صَاحِبَاكَ ؟ قَالَ : هُمَا الْمَرْءَانِ يُقْتَدَى بِهِمَا " .
ابووائل روایت:
اس مسجد (خانہ کعبہ) میں، میں شیبہ بن عثمان حجبی (جو کعبہ کے کلیدبردار تھے) کے پاس بیٹھا تو انہوں نے کہا کہ جہاں تم بیٹھے ہو، وہیں عمر رضی اللہ عنہ بھی میرے پاس بیٹھے تھے اور انہوں نے کہا تھا کہ میرا ارادہ ہے کہ کعبہ میں کسی طرح کا سونا چاندی نہ چھوڑوں اور سب مسلمانوں میں تقسیم کر دوں جو نذر اللہ کعبہ میں جمع ہے۔ میں نے کہا کہ آپ ایسا نہیں کر سکتے۔ کہاں کیوں؟ میں نے کہا کہ آپ کے دونوں ساتھیوں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ) نے ایسا نہیں کیا تھا۔ اس پر انہوں نے کہا کہ وہ دونوں بزرگ ایسے ہی تھے جن کی اقتداء کرنی ہی چاہیے۔
صحیح بخاری حدیث ۷۲۷۵ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع اقتداء ہے۔ شیبہ بن عثمان بیان کرتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ کعبہ کے پاس بیٹھے اور فرمایا کہ میرا ارادہ ہے کہ کعبہ میں جو سونا چاندی ہے اسے مسلمانوں میں تقسیم کر دوں۔ شیبہ نے کہا کہ آپ ایسا نہیں کریں گے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا کہ آپ کے دونوں ساتھیوں، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ایسا نہیں کیا۔ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ وہ دونوں ایسے بزرگ ہیں جن کی اقتداء کی جانی چاہیے۔ اس حدیث میں سنت کی پیروی، صحابہ کا ادب، اور سابقہ عمل کو معیار بنانے کا واضح سبق ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل دینی رہنمائی میں اصل معیار ہے۔
- ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عمل کو عمر رضی اللہ عنہ نے پیروی کے قابل سمجھا۔
- بڑے فیصلوں میں پہلے اہل حق کے عمل کو دیکھنا چاہیے۔
- عمر رضی اللہ عنہ نے دلیل سن کر اپنی رائے قبولیت کے ساتھ بدلی۔
