صحیح بخاری حدیث ۷۲۹ - تہجد کی جماعت اور امت پر آسانی
تہجد کی نماز اور امت پر آسانی
صحیح بخاری : ۷۲۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۲۹
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ فِي حُجْرَتِهِ وَجِدَارُ الْحُجْرَةِ قَصِيرٌ ، فَرَأَى النَّاسُ شَخْصَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَامَ أُنَاسٌ يُصَلُّونَ بِصَلَاتِهِ فَأَصْبَحُوا فَتَحَدَّثُوا بِذَلِكَ ، فَقَامَ اللَّيْلَةَ الثَّانِيَةَ فَقَامَ مَعَهُ أُنَاسٌ يُصَلُّونَ بِصَلَاتِهِ ، صَنَعُوا ذَلِكَ لَيْلَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا حَتَّى إِذَا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَخْرُجْ فَلَمَّا أَصْبَحَ ذَكَرَ ذَلِكَ النَّاسُ فَقَالَ : إِنِّي خَشِيتُ أَنْ تُكْتَبَ عَلَيْكُمْ صَلَاةُ اللَّيْلِ " .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں اپنے حجرہ کے اندر (تہجد کی) نماز پڑھتے تھے۔ حجرے کی دیواریں پست تھیں اس لیے لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیا اور کچھ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز کے لیے کھڑے ہو گئے۔ صبح کے وقت لوگوں نے اس کا ذکر دوسروں سے کیا۔ پھر جب دوسری رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو کچھ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں اس رات بھی کھڑے ہو گئے۔ یہ صورت دو یا تین رات تک رہی۔اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ رہے اور نماز کے مقام پر تشریف نہیں لائے۔ پھر صبح کے وقت لوگوں نے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ڈرا کہ کہیں رات کی نماز (تہجد) تم پر فرض نہ ہو جائے۔ (اس خیال سے میں نے یہاں کا آنا ناغہ کر دیا)۔
صحیح بخاری حدیث ۷۲۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات میں اپنے حجرہ کے اندر نماز پڑھتے تھے۔ دیواریں پست تھیں، لوگوں نے آپ کو دیکھا اور آپ کی اقتدا میں کھڑے ہو گئے۔ یہ عمل دو یا تین رات تک ہوا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے مقام پر تشریف نہ لائے۔ صبح لوگوں نے ذکر کیا تو آپ نے فرمایا کہ مجھے ڈر ہوا کہ رات کی نماز تم پر فرض نہ ہو جائے۔ اس روایت کا اصل موضوع تہجد کی نماز، لوگوں کا شوق، اور امت کے لیے آسانی ہے۔ حدیث یہ بتاتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی رغبت دیکھی، مگر فرضیت کے اندیشے سے اس عمل کو مسلسل جاری نہ رکھا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نفل نماز میں شوق اچھا ہے، مگر امت پر آسانی کا خیال بھی اہم ہے۔
- تہجد نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی محبوب عبادتوں میں سے تھی، جیسا کہ روایت سے ظاہر ہے۔
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے امت پر فرضیت کے اندیشے کی وجہ سے باہر آنا چھوڑا۔
