صحیح بخاری حدیث ۷۳۰ - رات کی نماز میں اقتدا کا واقعہ

چٹائی کی اوٹ میں رات کی نماز

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۳۰

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَهُ حَصِيرٌ يَبْسُطُهُ بِالنَّهَارِ وَيَحْتَجِرُهُ بِاللَّيْلِ فَثَابَ إِلَيْهِ نَاسٌ فَصَلَّوْا وَرَاءَهُ " .

عائشہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چٹائی تھی۔ جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم دن میں بچھاتے تھے اور رات میں اس کا پردہ کر لیتے تھے۔ پھر چند لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑے ہوئے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھکے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھنے لگے۔

صحیح بخاری حدیث ۷۳۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چٹائی تھی۔ آپ دن میں اسے بچھاتے اور رات میں اس کا پردہ کر لیتے۔ پھر کچھ لوگ آپ کے پاس کھڑے ہوئے یا آپ کی طرف متوجہ ہوئے اور آپ کے پیچھے نماز پڑھنے لگے۔ اس روایت میں اصل بات رات کی نماز اور لوگوں کی اقتدا کا واقعہ ہے۔ حدیث یہ نہیں بتاتی کہ کتنی رکعتیں تھیں یا بعد میں کیا حکم لگا، اس لیے بات کو اسی حد تک رکھنا چاہیے۔ یہ روایت ہمیں بتاتی ہے کہ صحابہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے جڑنا چاہتے تھے۔ ساتھ ہی یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ نفل نماز کا ماحول سادہ تھا، چٹائی تھی، اوٹ تھی، اور عبادت تھی۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • صحابہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی نماز کے پیچھے کھڑے ہونے کی رغبت رکھتے تھے۔
  • نفل نماز سادگی کے ساتھ بھی ادا کی جاتی تھی۔
  • حدیث کے اندر صرف رات کی نماز اور اقتدا کا واقعہ بیان ہوا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں