صحیح بخاری حدیث ۷۳۱ - نفل نماز گھر میں پڑھنے کی فضیلت
فرض کے علاوہ نفل نماز گھر میں پڑھنے کی حدیث
صحیح بخاری : ۷۳۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۳۱
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ حُجْرَةً ، قَالَ : حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ : مِنْ حَصِيرٍ فِي رَمَضَانَ فَصَلَّى فِيهَا لَيَالِيَ فَصَلَّى بِصَلَاتِهِ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَلَمَّا عَلِمَ بِهِمْ جَعَلَ يَقْعُدُ فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ ، فَقَالَ : قَدْ عَرَفْتُ الَّذِي رَأَيْتُ مِنْ صَنِيعِكُمْ فَصَلُّوا أَيُّهَا النَّاسُ فِي بُيُوتِكُمْ ، فَإِنَّ أَفْضَلَ الصَّلَاةِ صَلَاةُ الْمَرْءِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ " ، قَالَ عَفَّانُ : حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا مُوسَى ، سَمِعْتُ أَبَا النَّضْرِ ، عَنْ بُسْرٍ ، عَنْ زَيْدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
زید بن ثابت روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں ایک حجرہ بنا لیا یا اوٹ (پردہ) بسر بن سعید نے کہا میں سمجھتا ہوں وہ بورئیے کا تھا۔ آپ نے کئی رات اس میں نماز پڑھی۔ صحابہ میں سے بعض حضرات نے ان راتوں میں آپ کی اقتداء کی۔جب آپ کو اس کا علم ہوا تو آپ نے بیٹھ رہنا شروع کیا (نماز موقوف رکھی) پھر برآمد ہوئے اور فرمایا تم نے جو کیا وہ مجھ کو معلوم ہے، لیکن لوگو! تم اپنے گھروں میں نماز پڑھتے رہو کیونکہ بہتر نماز آدمی کی وہی ہے جو اس کے گھر میں ہو۔ مگر فرض نماز (مسجد میں پڑھنی ضروری ہے) اور عفان بن مسلم نے کہا کہ ہم سے وہیب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابوالنضر ابن ابی امیہ سے سنا، وہ بسر بن سعید سے روایت کرتے تھے، وہ زید بن ثابت سے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔
صحیح بخاری حدیث ۷۳۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں ایک حجرہ یا اوٹ بنا لی اور کئی رات اس میں نماز پڑھی۔ کچھ صحابہ نے آپ کی اقتدا کی۔ جب آپ کو اس کا علم ہوا تو آپ نے بیٹھ رہنا شروع کیا، پھر باہر آ کر فرمایا کہ تم نے جو کیا وہ مجھے معلوم ہے، لیکن لوگو، اپنے گھروں میں نماز پڑھتے رہو، کیونکہ آدمی کی بہتر نماز وہ ہے جو اس کے گھر میں ہو، مگر فرض نماز۔ اس حدیث کا اصل پیغام بہت واضح ہے: فرض نماز کا معاملہ الگ ہے، اور نفل نماز گھر میں پڑھنا بہتر بتایا گیا ہے۔ اس میں امت کے لیے آسانی، گھر میں عبادت، اور نفل نماز کا ادب شامل ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- فرض نماز کے علاوہ نفل نماز گھر میں پڑھنا بہتر بتایا گیا ہے۔
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے صحابہ کے عمل کو دیکھا اور انہیں گھر میں نماز کی ہدایت دی۔
- فرض نماز کو اس حکم سے الگ رکھا گیا ہے۔
