صحیح بخاری حدیث ۷۳۱۸ - حدیث پر گواہی کی احتیاط
حدیث کی گواہی: جنین کی دیت کے مسئلے میں تصدیق
صحیح بخاری : ۷۳۱۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۳۱۸
فَخَرَجْتُ فَوَجَدْتُ مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ ، فَجِئْتُ بِهِ ، فَشَهِدَ مَعِي ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِيهِ : غُرَّةٌ عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ " ، تَابَعَهُ ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ .
محمد بن مسلمہ روایت:
´پھر میں نکلا تو محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ مل گئے اور میں انہیں لایا اور انہوں نے میرے ساتھ گواہی دی کہ` انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ اس میں ایک غلام یا باندی کی تاوان ہے۔ ہشام بن عروہ کے ساتھ اس حدیث کو ابن ابی الزناد نے بھی اپنے باپ سے، انہوں نے عروہ سے، انہوں نے مغیرہ سے روایت کیا۔
صحیح بخاری حدیث ۷۳۱۸ کا خلاصہ
اس روایت کا اصل موضوع گواہی اور حدیث کی تصدیق ہے۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے جنین کی دیت کے بارے میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی حدیث بیان کی تھی، مگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا تھا کہ اس بات پر گواہی لاؤ۔ پھر حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ نکلے اور محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو لے آئے۔ انہوں نے بھی گواہی دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو فرماتے سنا کہ اس میں ایک غلام یا باندی تاوان ہے۔ اس مختصر روایت میں علمی امانت بہت نمایاں ہے۔ حدیث سننا، اسے نقل کرنا، پھر ضرورت پڑنے پر دوسرے صحابی کی گواہی پیش کرنا، یہ سب بتاتا ہے کہ صحابہ دینی حکم میں کتنی احتیاط کرتے تھے۔ جنین کی دیت، حدیث کی تحقیق اور گواہی اس روایت کے اہم الفاظ ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث بیان کرنے والے کی تائید کے لیے گواہی پیش کی گئی۔
- جنین کی دیت کے مسئلے میں ایک غلام یا باندی کا تاوان بیان ہوا۔
- صحابہ حدیث نقل کرنے میں احتیاط کرتے تھے۔
- دینی فیصلے میں ثبوت اور تصدیق کی اہمیت واضح ہے۔
