صحیح بخاری حدیث ۷۳۱۷ - حمل ضائع ہونے کی دیت
جنین کی دیت کی حدیث: فیصلے سے پہلے حدیث کی تحقیق
صحیح بخاری : ۷۳۱۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۳۱۷
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : سَأَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَنْ إِمْلَاصِ الْمَرْأَةِ هِيَ الَّتِي يُضْرَبُ بَطْنُهَا فَتُلْقِي جَنِينًا ؟ ، فَقَالَ : أَيُّكُمْ سَمِعَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ شَيْئًا ؟ ، فَقُلْتُ : أَنَا ، فَقَالَ : مَا هُوَ ؟ ، قُلْتُ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ فِيهِ : " غُرَّةٌ عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ ، فَقَالَ : لَا تَبْرَحْ حَتَّى تَجِيئَنِي بِالْمَخْرَجِ فِيمَا قُلْتَ .
مغیرہ بن شعبہ روایت:
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عورت کے املاص کے متعلق (صحابہ سے) پوچھا۔ یہ اس عورت کو کہتے ہیں جس کے پیٹ پر مار دیا گیا (جبکہ وہ حاملہ ہو) ہو اور اس کا ناتمام (ادھورا) بچہ گر گیا ہو۔ عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا آپ لوگوں میں سے کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں کوئی حدیث سنی ہے؟میں نے کہا کہ میں نے سنی ہے۔ پوچھا کیا حدیث ہے؟ میں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ ایسی صورت میں ایک غلام یا باندی تاوان کے طور پر ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم اب چھوٹ نہیں سکتے یہاں تک کہ تم نے جو حدیث بیان کی ہے اس سلسلے میں نجات کا کوئی ذریعہ (یعنی کوئی شہادت کہ واقعی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حدیث فرمائی تھی) لاؤ۔
صحیح بخاری حدیث ۷۳۱۷ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع جنین کی دیت ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس عورت کے بارے میں پوچھا جس کے پیٹ پر مارا جائے اور اس کا ادھورا بچہ گر جائے۔ انہوں نے صحابہ سے سوال کیا کہ کیا کسی نے اس بارے میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے کوئی حدیث سنی ہے؟ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ انہوں نے نبی کریم صلى الله عليه وسلم سے سنا ہے کہ ایسی صورت میں ایک غلام یا باندی تاوان کے طور پر ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فوراً فیصلہ نہیں چھوڑ دیا، بلکہ کہا کہ اپنی بیان کردہ حدیث پر کوئی گواہی لاؤ۔ اس حدیث میں جنین کی دیت کے ساتھ ایک اور بڑا سبق ہے کہ دینی اور عدالتی معاملے میں حدیث کی تصدیق ضروری سمجھی گئی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جنین کے نقصان کے مسئلے میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی حدیث تلاش کی گئی۔
- حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حدیث سن کر گواہی کا مطالبہ کیا۔
- دینی فیصلہ ذاتی اندازے کے بجائے روایت کی بنیاد پر کیا گیا۔
- حساس مسئلے میں تحقیق اور ثبوت کا اہتمام ضروری ہے۔
