صحیح بخاری حدیث ۷۳۱۶ - دو چیزوں پر رشک کی اجازت

رشک کی حدیث: مال حق میں خرچ کرنا اور حکمت سکھانا

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۳۱۶

حَدَّثَنَا شِهَابُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ : رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَسُلِّطَ عَلَى هَلَكَتِهِ فِي الْحَقِّ ، وَآخَرُ آتَاهُ اللَّهُ حِكْمَةً فَهُوَ يَقْضِي بِهَا وَيُعَلِّمُهَا " .

عبداللہ بن مسعود روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”رشک دو ہی آدمیوں پر ہو سکتا ہے، ایک وہ جسے اللہ نے مال دیا اور اسے (مال کو) راہ حق میں لٹانے کی پوری طرح توفیق ملی ہوتی ہے اور دوسرا وہ جسے اللہ نے حکمت دی ہے اور اس کے ذریعہ فیصلہ کرتا ہے اور اس کی تعلیم دیتا ہے۔“

صحیح بخاری حدیث ۷۳۱۶ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع جائز رشک ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ رشک صرف دو آدمیوں پر ہو سکتا ہے۔ ایک وہ شخص جسے اللہ نے مال دیا اور اسے حق کے راستے میں خرچ کرنے کی توفیق دی۔ دوسرا وہ شخص جسے اللہ نے حکمت دی، وہ اس کے ذریعے فیصلہ کرتا ہے اور اسے لوگوں کو سکھاتا ہے۔ یہاں حسد سے مراد نقصان چاہنا نہیں، بلکہ ایسی نیکی کی خواہش ہے جیسی دوسرے کے پاس ہے۔ حدیث میں مال کی فضیلت مال جمع کرنے میں نہیں، بلکہ اسے حق میں خرچ کرنے میں بتائی گئی۔ اسی طرح حکمت کی قدر اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب آدمی اس سے فیصلے کرے اور دوسروں کو سکھائے۔ رشک کی حدیث، حکمت کی حدیث، مال خرچ کرنے کی حدیث اور علم سکھانے کی فضیلت اس روایت کے اہم موضوعات ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مال کی اصل خوبی اسے حق کے راستے میں خرچ کرنا ہے۔
  • حکمت رکھنے والا شخص اس سے فیصلہ بھی کرتا ہے اور تعلیم بھی دیتا ہے۔
  • نیکی میں آگے بڑھنے کی خواہش اچھی ہے، مگر نقصان چاہنا درست نہیں۔
  • علم اور مال دونوں اللہ کی عطا ہیں، ان کا صحیح استعمال ضروری ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں