صحیح بخاری حدیث ۷۳۴۶ - فیصلہ اللہ کے اختیار میں ہے
فیصلہ اللہ کے اختیار میں ہے: فجر کی دعا اور قرآنی رہنمائی
صحیح بخاری : ۷۳۴۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۳۴۶
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ وَرَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ فِي الْأَخِيرَةِ ، ثُمَّ قَالَ : اللَّهُمَّ الْعَنْ فُلَانًا وَفُلَانًا ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ سورة آل عمران آية 128 .
عبداللہ بن عمر روایت:
´ہم سے احمد بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو معمر نے، انہیں زہری نے، انہیں سالم نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے` انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز میں یہ دعا رکوع سے سر اٹھانے کے بعد پڑھتے تھے «اللهم ربنا ولك الحمد» ”اے اللہ! ہمارے رب تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے اللہ! فلاں اور فلاں کو اپنی رحمت سے دور کر دے۔“ اس پر اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل کی کہ آپ کو اس معاملہ میں کوئی اختیار نہیں ہے اللہ! ان کی توبہ قبول کر لے یا انہیں عذاب دے کہ بلاشبہ وہ حد سے تجاوز کرنے والے ہیں۔
صحیح بخاری حدیث ۷۳۴۶ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ کسی کے انجام، توبہ یا سزا کا آخری اختیار صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز میں رکوع سے سر اٹھانے کے بعد ‘اللهم ربنا ولك الحمد’ کہتے، پھر کچھ لوگوں کے بارے میں دعا فرمائی۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی کہ آپ کے اختیار میں اس معاملے کی کوئی چیز نہیں، اللہ چاہے تو ان کی توبہ قبول کرے اور چاہے تو انہیں عذاب دے۔ اس سے ‘اللہ کا اختیار’، ‘توبہ کی قبولیت’ اور ‘دعا میں ادب’ جیسے اہم موضوع سامنے آتے ہیں۔ حدیث ہمیں یہ بھی سمجھاتی ہے کہ بندہ دعا کر سکتا ہے، مگر آخری فیصلہ اللہ ہی کا ہوتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بندوں کے انجام کا آخری فیصلہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔
- دعا کے بعد بھی معاملہ اللہ کے سپرد رہتا ہے۔
- رکوع کے بعد اللہ کی حمد کہنا اس حدیث میں واضح طور پر آیا ہے۔
- توبہ قبول ہونا یا سزا ملنا اللہ کے فیصلے سے متعلق ہے۔
