صحیح بخاری حدیث ۷۳۸۹ - اللہ بندوں کی بات سنتا ہے
اللہ سننے والا ہے: قوم کی بات بھی اس سے پوشیدہ نہیں
صحیح بخاری : ۷۳۸۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۳۸۹
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، حَدَّثَتْهُ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام نَادَانِي ، قَالَ : إِنَّ اللَّهَ قَدْ سَمِعَ قَوْلَ قَوْمِكَ وَمَا رَدُّوا عَلَيْكَ " .
عائشہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جبرائیل علیہ السلام نے مجھے پکار کر کہا کہ اللہ نے آپ کی قوم کی بات سن لی اور وہ بھی سن لیا جو انہوں نے آپ کو جواب دیا۔“
صحیح بخاری حدیث ۷۳۸۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں اللہ کے سننے کی صفت کا بیان ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جبرائیل علیہ السلام نے مجھے پکار کر کہا کہ اللہ نے آپ کی قوم کی بات سن لی اور وہ جواب بھی سن لیا جو انہوں نے آپ کو دیا۔ حدیث کا پیغام مختصر مگر بہت صاف ہے کہ انسانوں کی باتیں اللہ سے چھپی ہوئی نہیں ہوتیں۔ وہ صرف بلند آواز نہیں سنتا، بلکہ لوگوں کے جواب، رویے اور گفتگو بھی اس کے علم میں ہیں۔ اس لیے بندے کو اپنی بات، جواب اور انداز میں احتیاط کرنی چاہیے۔ اللہ سمیع ہے، اللہ سننے والا ہے، اور اللہ ہر حال سے واقف ہے؛ یہ اس حدیث کا مرکزی سبق ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ لوگوں کی باتیں سنتا ہے۔
- انسان کا جواب اور رویہ بھی اللہ کے علم میں ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جبرائیل علیہ السلام کے ذریعے خبر دی گئی۔
- بات کرتے وقت اللہ کے سننے کا احساس رہنا چاہیے۔
