صحیح بخاری حدیث ۷۳۹۰ - نماز استخارہ کی دعا اور طریقہ
نماز استخارہ: ہر جائز کام میں اللہ سے خیر مانگنے کا طریقہ
صحیح بخاری : ۷۳۹۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۳۹۰
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْمَوَالِي ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ يُحَدِّثُ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَسَنِ ، يَقُولُ : أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السَّلَمِيُّ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُ أَصْحَابَهُ الِاسْتِخَارَةَ فِي الْأُمُورِ كُلِّهَا كَمَا يُعَلِّمُهُمُ السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ ، يَقُولُ : إِذَا هَمَّ أَحَدُكُمْ بِالْأَمْرِ ، فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ مِنْ غَيْرِ الْفَرِيضَةِ ، ثُمَّ لِيَقُلْ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ ، وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ ، فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ ، وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ ، وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ ، اللَّهُمَّ فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ هَذَا الْأَمْرَ ، ثُمَّ تُسَمِّيهِ بِعَيْنِهِ خَيْرًا لِي فِي عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ ، قَالَ : أَوْ فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي ، فَاقْدُرْهُ لِي وَيَسِّرْهُ لِي ، ثُمَّ بَارِكْ لِي فِيهِ ، اللَّهُمَّ وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّهُ شَرٌّ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي ، أَوْ قَالَ : فِي عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ ، فَاصْرِفْنِي عَنْهُ وَاقْدُرْ لِي الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ ، ثُمَّ رَضِّنِي بِهِ " .
عبداللہ بن حسن روایت:
مجھے جابر بن عبداللہ سلمیٰ رضی اللہ عنہ نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کو ہر مباح کام میں استخارہ کرنا سکھاتے تھے جس طرح آپ قرآن کی سورت سکھاتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ جب تم میں سے کوئی کسی کام کا مقصد کرے تو اسے چاہئے کہ فرض کے سوا دو رکعت نفل نماز پڑھے، پھر سلام کے بعد یہ دعا کرے ”اے اللہ! میں تیرے علم کے طفیل اس کام میں خیریت طلب کرتا ہوں اور تیری قدرت کے طفیل طاقت مانگتا ہوں اور تیرا فضل۔ کیونکہ تجھے قدرت ہے اور مجھے نہیں ‘، تو جانتا ہے اور میں نہیں جانتا اور تو غیوب کا بہت جاننے والا ہے۔اے اللہ! پس اگر تو یہ بات جانتا ہے (اس وقت استخارہ کرنے والے کو اس کام کا نام لینا چاہئیے) کہ اس کام میں میرے لیے دنیا و آخرت میں بھلائی ہے یا اس طرح فرمایا کہ ”میرے دین میں اور گزران میں اور میرے ہر انجام کے اعتبار سے بھلائی ہے تو اس پر مجھے قادر بنا دے اور میرے لیے اسے آسان کر دے، پھر اس میں میرے لیے برکت عطا فرما۔اے اللہ! اور اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے لیے برا ہے۔ میرے دین اور گزران کے اعتبار سے اور میرے انجام کے اعتبار سے، یا فرمایا کہ میری دنیا و دین کے اعتبار سے تو مجھے اس کام سے دور کر دے اور میرے لیے بھلائی مقدر کر دے جہاں بھی وہ ہو اور پھر مجھے اس پر راضی اور خوش رکھ۔
صحیح بخاری حدیث ۷۳۹۰ کا خلاصہ
یہ حدیث نماز استخارہ اور دعا استخارہ کی اصل تعلیم بیان کرتی ہے۔ جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کو ہر مباح کام میں استخارہ سکھاتے تھے، جیسے قرآن کی سورت سکھاتے تھے۔ جب کوئی کام کرنا ہو تو فرض نماز کے علاوہ دو رکعت نفل پڑھی جائے، پھر اللہ سے اس کے علم، قدرت اور فضل کے وسیلے سے خیر مانگی جائے۔ دعا میں بندہ مانتا ہے کہ اللہ جانتا ہے اور میں نہیں جانتا، اللہ قادر ہے اور میں قادر نہیں۔ پھر وہ اللہ سے کہتا ہے کہ اگر یہ کام دین، زندگی اور انجام کے لیے بہتر ہے تو آسان کر دے، برکت دے؛ اور اگر برا ہے تو دور کر دے اور جہاں خیر ہو وہ مقدر کر دے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کسی جائز کام سے پہلے اللہ سے خیر مانگنی چاہیے۔
- استخارہ میں دو رکعت نفل اور پھر دعا سکھائی گئی ہے۔
- بندہ اپنے علم کی کمی اور اللہ کے علم کا اقرار کرتا ہے۔
- استخارہ کا مقصد خیر، آسانی، برکت اور دل کی رضا مانگنا ہے۔
