صحیح بخاری حدیث ۷۳۹۷ - شکار میں اللہ کا نام لینے کا حکم

شکار کی حدیث: سدھائے ہوئے کتے اور بسم اللہ کا حکم

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۳۹۷

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قُلْتُ : أُرْسِلُ كِلَابِي الْمُعَلَّمَةَ ؟ ، قَالَ : " إِذَا أَرْسَلْتَ كِلَابَكَ الْمُعَلَّمَةَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ فَأَمْسَكْنَ فَكُلْ ، وَإِذَا رَمَيْتَ بِالْمِعْرَاضِ فَخَزَقَ فَكُلْ " .

عدی بن حاتم روایت:

میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میں اپنے سدھائے ہوئے کتے کو شکار کے لیے چھوڑتا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم سدھائے ہوئے کتے چھوڑو اور ان کے ساتھ اللہ کا نام بھی لے لو، پھر وہ کوئی شکار پکڑیں اور اسے کھائیں نہیں تو تم اسے کھا سکتے ہو اور جب شکار پر بن پھال کے تیر یعنی لکڑی سے کوئی شکار مارے لیکن وہ نوک سے لگ کر جانور کا گوشت چیر دے تو ایسا شکار بھی کھاؤ۔

صحیح بخاری حدیث ۷۳۹۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں شکار کے بارے میں سوال اور جواب ہے۔ عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ میں اپنے سدھائے ہوئے کتے شکار کے لیے چھوڑتا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم سدھائے ہوئے کتے چھوڑو، اللہ کا نام بھی لو، اور وہ شکار پکڑیں مگر اسے کھائیں نہیں، تو تم اسے کھا سکتے ہو۔ اسی طرح معراض یعنی بن پھال کے تیر کا ذکر آیا کہ اگر وہ نوک سے لگ کر جانور کا گوشت چیر دے تو ایسا شکار کھاؤ۔ حدیث کا مرکزی موضوع شکار میں بسم اللہ، سدھایا ہوا کتا، اور شکار کے حلال ہونے کی شرط ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • شکار کے وقت اللہ کا نام لینا بیان کیا گیا ہے۔
  • سدھائے ہوئے کتے کا پکڑا ہوا شکار مخصوص شرط کے ساتھ کھایا جا سکتا ہے۔
  • اگر کتا شکار میں سے کھا لے تو اس روایت میں کھانے کی اجازت نہیں دی گئی۔
  • تیر یا آلے کا زخم لگنا شکار کے حکم میں اثر رکھتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں