صحیح بخاری حدیث ۷۴۱۲ - قیامت کے دن حقیقی بادشاہی

قیامت کے دن اللہ فرمائے گا: میں بادشاہ ہوں

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۴۱۲

حَدَّثَنَا مُقَدَّمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَمِّي الْقَاسِمُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ يَقْبِضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْأَرْضَ وَتَكُونُ السَّمَوَاتُ بِيَمِينِهِ ، ثُمَّ يَقُولُ : أَنَا الْمَلِكُ " ، رَوَاهُ سَعِيدٌ ، عَنْ مَالِكٍ .

عبداللہ بن عمر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت کے دن زمین اس کی مٹھی میں ہو گی اور آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں ہو گا، پھر کہے گا کہ میں بادشاہ ہوں۔“ اس کی روایت سعید نے مالک سے کی۔

صحیح بخاری حدیث ۷۴۱۲ کا خلاصہ

یہ حدیث اللہ کی کامل بادشاہی اور قیامت کے دن اس کے اقتدار کا بیان کرتی ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن اللہ زمین کو اپنی مٹھی میں لے گا اور آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں ہوں گے، پھر فرمائے گا کہ میں بادشاہ ہوں۔ اس حدیث میں انسان کو یہ بات یاد دلائی گئی ہے کہ دنیا کی حکومتیں، طاقتیں اور اختیار عارضی ہیں، جبکہ اصل بادشاہی اللہ کی ہے۔ حدیث کے الفاظ اللہ کی شان کے بارے میں ہیں؛ علمائے کرام کے مطابق ایسے الفاظ کو اللہ کے لائق مانا جاتا ہے، ان کی کیفیت بیان نہیں کی جاتی۔ سرچ کے لحاظ سے قیامت کے دن اللہ کی بادشاہی، زمین اللہ کی مٹھی میں، اور انا الملک حدیث اس روایت کے اہم الفاظ ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قیامت کے دن اللہ کی بادشاہی واضح طور پر ظاہر ہوگی۔
  • زمین اور آسمان سب اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں۔
  • دنیا کی طاقتیں عارضی ہیں، اصل بادشاہ اللہ ہے۔
  • حدیث میں قیامت کا منظر مختصر مگر بہت مؤثر انداز میں بیان ہوا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں