صحیح بخاری حدیث ۷۴۱۳ - اللہ زمین کو اپنی مٹھی میں لے گا
زمین اللہ کی مٹھی میں: قیامت کی قدرت والی حدیث
صحیح بخاری : ۷۴۱۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۴۱۳
وَقَالَ عُمَرُ بْنُ حَمْزَةَ ، سَمِعْتُ سَالِمًا ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا ، وَقَالَ أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَقْبِضُ اللَّهُ الْأَرْضَ .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ زمین کو اپنی مٹھی میں لے لے گا۔“
صحیح بخاری حدیث ۷۴۱۳ کا خلاصہ
یہ مختصر روایت پچھلی حدیث کے مضمون کو مزید مضبوط کرتی ہے۔ اس میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے وہی بات نقل ہوئی، اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کا فرمان آیا کہ اللہ زمین کو اپنی مٹھی میں لے لے گا۔ حدیث کے الفاظ مختصر ہیں، مگر معنی بہت بڑا ہے: زمین، جسے انسان اپنے لیے بڑی چیز سمجھتا ہے، قیامت کے دن اللہ کے قبضہ قدرت میں ہوگی۔ یہ روایت اللہ کی قدرت، قیامت، اور حقیقی بادشاہی کے موضوع سے متعلق ہے۔ یہاں تفصیل کم ہے، اس لیے وضاحت بھی انہی الفاظ کے اندر رہنی چاہیے۔ علمائے کرام کے مطابق صفات سے متعلق ایسے الفاظ کو اللہ کی شان کے مطابق مانا جاتا ہے، کیفیت بیان نہیں کی جاتی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- زمین اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے۔
- قیامت کے دن اللہ کی قدرت کا معاملہ بندوں پر واضح ہوگا۔
- مختصر حدیث بھی بڑے عقیدہ کو بیان کر سکتی ہے۔
- اللہ کی صفات کے الفاظ کو ادب اور احتیاط کے ساتھ سمجھنا چاہیے۔
