صحیح بخاری حدیث ۷۴۵۱ - اللہ کی عظمت
اللہ کی عظمت کی حدیث: میں ہی بادشاہ ہوں
صحیح بخاری : ۷۴۵۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۴۵۱
حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " جَاءَ حَبْرٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ إِنَّ اللَّهَ يَضَعُ السَّمَاءَ عَلَى إِصْبَعٍ ، وَالْأَرْضَ عَلَى إِصْبَعٍ ، وَالْجِبَالَ عَلَى إِصْبَعٍ ، وَالشَّجَرَ وَالْأَنْهَارَ عَلَى إِصْبَعٍ ، وَسَائِرَ الْخَلْقِ عَلَى إِصْبَعٍ ، ثُمَّ يَقُولُ بِيَدِهِ : أَنَا الْمَلِكُ ، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ سورة الأنعام آية 91 .
عبداللہ بن مسعود روایت:
ایک یہودی عالم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے محمد! قیامت کے دن اللہ تعالیٰ آسمانوں کو ایک انگلی پر، زمین کو ایک انگلی پر، پہاڑوں کو ایک انگلی پر، درخت اور نہروں کو ایک انگلی پر اور تمام مخلوقات کو ایک انگلی پر رکھے گا۔ پھر اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے کہے گا کہ میں ہی بادشاہ ہوں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس دئیے اور یہ آیت پڑھی «وما قدروا الله حق قدره» (جو سورۃ الزمر میں ہے)۔
صحیح بخاری حدیث ۷۴۵۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع اللہ کی عظمت ہے۔ ایک یہودی عالم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کہا کہ قیامت کے دن اللہ آسمانوں، زمین، پہاڑوں، درختوں، نہروں اور تمام مخلوق کو اپنی قدرت میں لے گا اور فرمائے گا کہ میں ہی بادشاہ ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر ہنسے اور آیت پڑھی کہ لوگوں نے اللہ کی قدر جیسی کرنی چاہیے تھی، ویسی نہ کی۔ اس حدیث میں اللہ کی بادشاہی، قدرت اور عظمت کا ذکر ہے۔ بندے کے لیے اس کا سیدھا سبق یہ ہے کہ کائنات کی بڑی سے بڑی چیز بھی اللہ کے سامنے معمولی ہے۔ اس لیے انسان کو غرور، خود پسندی اور اللہ کی نافرمانی سے بچنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ ہی حقیقی بادشاہ ہے۔
- آسمان، زمین اور ساری مخلوق اللہ کی قدرت کے تحت ہیں۔
- بندے کو اللہ کی عظمت کا صحیح احساس رکھنا چاہیے۔
- انسان کو اپنی کمزوری اور اللہ کی بڑائی یاد رکھنی چاہیے۔
