صحیح بخاری حدیث ۷۴۵۰ - گناہ سزا اور رحمت

اللہ کی رحمت کی حدیث: گناہوں کے بعد بھی فضل کا دروازہ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۴۵۰

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَيُصِيبَنَّ أَقْوَامًا سَفْعٌ مِنَ النَّارِ بِذُنُوبٍ أَصَابُوهَا عُقُوبَةً ، ثُمَّ يُدْخِلُهُمُ اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ ، يُقَالُ لَهُمْ : الْجَهَنَّمِيُّونَ " ، وَقَالَ هَمَّامٌ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .

انس روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کچھ لوگ ان گناہوں کی وجہ سے جو انہوں نے کئے ہوں گے، آگ سے جھلس جائیں گے یہ ان کی سزا ہو گی۔ پھر اللہ اپنی رحمت سے انہیں جنت میں داخل کرے گا اور انہیں «جهنميون» کہا جائے گا۔ اور ہمام نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث بیان کی۔

صحیح بخاری حدیث ۷۴۵۰ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع اللہ کی رحمت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کچھ لوگ اپنے کیے ہوئے گناہوں کی وجہ سے آگ سے جھلسیں گے۔ یہ ان کے گناہوں کی سزا ہوگی۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے انہیں جنت میں داخل کرے گا، اور انہیں جہنمیون کہا جائے گا۔ اس حدیث میں دو باتیں ساتھ ساتھ آتی ہیں: گناہ کی سزا بھی حقیقی ہے، اور اللہ کی رحمت بھی بہت بڑی ہے۔ اس لیے اس حدیث کو سن کر نہ گناہ کو ہلکا سمجھنا چاہیے، نہ اللہ کی رحمت سے مایوس ہونا چاہیے۔ متن کے مطابق بات یہی ہے کہ کچھ لوگ اپنے گناہوں پر سزا پائیں گے، پھر اللہ کے فضل اور رحمت سے جنت میں داخل کیے جائیں گے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • گناہوں پر سزا کا معاملہ حدیث میں واضح بیان ہوا ہے۔
  • اللہ اپنی رحمت سے بعض سزا یافتہ لوگوں کو جنت میں داخل فرمائے گا۔
  • گناہ کو معمولی سمجھنا درست نہیں۔
  • اللہ کی رحمت سے مایوسی بھی مناسب نہیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں