صحیح بخاری حدیث ۷۴۱۴ - اللہ کی عظمت کا بیان

وما قدروا اللہ حق قدرہ: اللہ کی عظمت کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۴۱۴

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، سَمِعَ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ ، وَسُلَيْمَانُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، " أَنَّ يَهُودِيًّا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، إِنَّ اللَّهَ يُمْسِكُ السَّمَوَاتِ عَلَى إِصْبَعٍ ، وَالْأَرَضِينَ عَلَى إِصْبَعٍ ، وَالْجِبَالَ عَلَى إِصْبَعٍ ، وَالشَّجَرَ عَلَى إِصْبَعٍ ، وَالْخَلَائِقَ عَلَى إِصْبَعٍ ، ثُمَّ يَقُولُ : أَنَا الْمَلِكُ ، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ ، ثُمَّ قَرَأَ : وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ سورة الأنعام آية 91 " ، قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ : وَزَادَ فِيهِ فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعَجُّبًا وَتَصْدِيقًا لَهُ .

عبداللہ روایت:

ایک یہودی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے محمد! اللہ آسمانوں کو ایک انگلی پر روک لے گا اور زمین کو بھی ایک انگلی پر اور پہاڑوں کو ایک انگلی پر اور درختوں کو ایک انگلی پر اور مخلوقات کو ایک انگلی پر، پھر فرمائے گا کہ میں بادشاہ ہوں۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دئیے یہاں تک کہ آپ کے آگے کے دندان مبارک دکھائی دینے لگے۔ پھر سورۃ الانعام کی یہ آیت پڑھی «وما قدروا الله حق قدره‏»۔یحییٰ بن سعید نے بیان کیا کہ اس روایت میں فضیل بن عیاض نے منصور سے اضافہ کیا، ان سے ابراہیم نے، ان سے عبیدہ نے، ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر تعجب کی وجہ سے اور اس کی تصدیق کرتے ہوئے ہنس دیئے۔

صحیح بخاری حدیث ۷۴۱۴ کا خلاصہ

اس حدیث میں ایک یہودی نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ اللہ آسمانوں کو ایک انگلی پر، زمین کو ایک انگلی پر، پہاڑوں کو ایک انگلی پر، درختوں کو ایک انگلی پر اور مخلوقات کو ایک انگلی پر روک لے گا، پھر فرمائے گا کہ میں بادشاہ ہوں۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم یہ سن کر مسکرائے، یہاں تک کہ آپ کے دندان مبارک ظاہر ہوئے، پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے آیت پڑھی: وما قدروا اللہ حق قدرہ۔ روایت میں یہ بھی آیا کہ آپ صلى الله عليه وسلم تعجب اور تصدیق کی وجہ سے ہنسے۔ اس حدیث کا اصل موضوع اللہ کی عظمت، قدرت، اور حقیقی بادشاہی ہے۔ علمائے کرام کے مطابق ایسے الفاظ کو اللہ کی شان کے مطابق مانا جاتا ہے، مخلوق جیسی کیفیت نہیں دی جاتی۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • آسمان، زمین، پہاڑ، درخت اور مخلوق سب اللہ کے اختیار میں ہیں۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے اللہ کی عظمت سے متعلق بات سن کر آیت تلاوت فرمائی۔
  • حدیث میں اللہ کی بادشاہی کا بیان قیامت کے منظر سے جڑا ہوا ہے۔
  • صفات سے متعلق الفاظ کو اللہ کی شان کے مطابق سمجھنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں