صحیح بخاری حدیث ۷۴۷۰ - بیمار کی عیادت اور اچھی بات

بیمار کی عیادت کی حدیث: لا بأس طهور إن شاء الله

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۴۷۰

حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " دَخَلَ عَلَى أَعْرَابِيٍّ يَعُودُهُ ، فَقَالَ : لَا بَأْسَ عَلَيْكَ طَهُورٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، قَالَ : قَالَ الْأَعْرَابِيُّ : طَهُورٌ ، بَلْ هِيَ حُمَّى تَفُورُ عَلَى شَيْخٍ كَبِيرٍ تُزِيرُهُ الْقُبُورَ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَنَعَمْ إِذًا " .

ابن عباس روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک اعرابی کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے اور اس سے کہا کہ کوئی مضائقہ نہیں یہ (بیماری) تمہارے لیے پاکی کا باعث ہے، اس پر اس نے کہا کہ جناب یہ وہ بخار ہے جو ایک بڈھے پر جوش مار رہا ہے اور اسے قبر تک پہنچا کے رہے گا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر یونہی ہو گا۔

صحیح بخاری حدیث ۷۴۷۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک اعرابی کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تسلی دی اور فرمایا کہ کوئی مضائقہ نہیں، یہ بیماری تمہارے لیے پاکی کا باعث ہے، ان شاء اللہ۔ اس پر اس اعرابی نے بات کو قبول کرنے کے بجائے کہا کہ یہ بخار ہے جو ایک بوڑھے پر جوش مار رہا ہے اور اسے قبر تک پہنچا دے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر یونہی ہو گا۔ اس حدیث میں بیمار کی عیادت، اچھی بات کہنے اور اللہ سے خیر کی امید رکھنے کا انداز ملتا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مریض کو مایوسی والی بات کے بجائے خیر، پاکی اور امید کی بات قبول کرنی چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • بیمار کی عیادت کرنا اچھا عمل ہے۔
  • مریض کو تسلی اور خیر کی دعا دینا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے۔
  • بیماری کے وقت مایوسی کی زبان سے بچنا چاہیے۔
  • خیر کی بات سن کر اسے قبول کرنا بہتر ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں