صحیح بخاری حدیث ۷۴۷۱ - سو کر نماز رہ جائے تو کیا کریں

سو کر نماز قضا ہونے کی حدیث: وضو اور نماز کا طریقہ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۴۷۱

حَدَّثَنَا ابْنُ سَلَامٍ ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ حِينَ نَام عَنِ الصَّلَاةِ ، قَال النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ قَبَضَ أَرْوَاحَكُمْ حِينَ شَاءَ ، وَرَدَّهَا حِينَ شَاءَ ، فَقَضَوْا حَوَائِجَهُمْ وَتَوَضَّئُوا إِلَى أَنْ طَلَعَتِ الشَّمْسُ ، وَابْيَضَّتْ فَقَامَ فَصَلَّى " .

´ہم سے ابن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشیم نے خبر دی، انہیں حصین نے، انہیں عبداللہ بن ابی قتادہ نے، انہیں ان کے والد نے کہ` جب سب لوگ سوئے اور نماز قضاء ہو گئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تمہاری روحوں کو جب چاہتا ہے روک دیتا ہے اور جب چاہتا ہے چھوڑ دیتا ہے، پس تم اپنی ضرورتوں سے فارغ ہو کر وضو کرو، آخر جب سورج پوری طرح طلوع ہو گیا اور خوب دن نکل آیا تو آپ کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی۔

صحیح بخاری حدیث ۷۴۷۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں ایک واقعہ بیان ہوا ہے کہ لوگ سو گئے اور نماز قضا ہو گئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تمہاری روحوں کو جب چاہتا ہے روک لیتا ہے اور جب چاہتا ہے واپس کر دیتا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو اپنی ضرورتوں سے فارغ ہونے اور وضو کرنے کا حکم دیا۔ جب سورج پوری طرح طلوع ہو گیا اور خوب دن نکل آیا تو آپ کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی۔ اس حدیث میں یہ بات صاف ہے کہ نیند کی حالت میں نماز رہ جائے تو بیدار ہونے کے بعد اسے ادا کیا جائے۔ یہاں خاص طور پر یہ بھی بیان ہوا کہ اس موقع پر وضو کیا گیا اور سورج کے اچھی طرح نکل آنے کے بعد نماز پڑھی گئی۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نیند میں نماز رہ جائے تو بیدار ہونے کے بعد نماز ادا کی جائے۔
  • نماز کے لیے وضو کی تیاری ضروری ہے۔
  • روحوں کا قبض اور واپسی اللہ کے اختیار میں ہے۔
  • قضا نماز کے معاملے میں سستی نہیں کرنی چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں