صحیح بخاری حدیث ۷۴۸۵ - اللہ کی محبت اور زمین میں قبولیت
اللہ کی محبت کی حدیث: جبرائیل، اہل آسمان اور زمین کی قبولیت
صحیح بخاری : ۷۴۸۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۴۸۵
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ هُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِذَا أَحَبَّ عَبْدًا نَادَى جِبْرِيلَ إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَحَبَّ فُلَانًا ، فَأَحِبَّهُ فَيُحِبُّهُ جِبْرِيلُ ، ثُمَّ يُنَادِي جِبْرِيلُ فِي السَّمَاءِ إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَحَبَّ فُلَانًا ، فَأَحِبُّوهُ ، فَيُحِبُّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ ، وَيُوضَعُ لَهُ الْقَبُولُ فِي أَهْلِ الْأَرْضِ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب اللہ تعالیٰ کسی بندہ سے محبت کرتا ہے تو جبرائیل علیہ السلام کو آواز دیتا ہے کہ اللہ فلاں سے محبت کرتا ہے تم بھی اس سے محبت کرو۔ چنانچہ جبرائیل علیہ السلام بھی اس سے محبت کرتے ہیں۔ پھر وہ آسمان میں آواز دیتے ہیں کہ اللہ فلاں سے محبت کرتا ہے تم بھی اس سے محبت کرو چنانچہ اہل آسمان بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اور اس طرح روئے زمین میں بھی اسے مقبولیت حاصل ہو جاتی ہے۔“
صحیح بخاری حدیث ۷۴۸۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی محبت کا ایک خوبصورت بیان فرمایا۔ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبرائیل علیہ السلام کو آواز دیتا ہے کہ اللہ فلاں سے محبت کرتا ہے، تم بھی اس سے محبت کرو۔ جبرائیل علیہ السلام بھی اس سے محبت کرتے ہیں۔ پھر وہ آسمان میں اعلان کرتے ہیں کہ اللہ فلاں سے محبت کرتا ہے، تم بھی اس سے محبت کرو۔ اہل آسمان بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں۔ پھر زمین والوں میں اس کے لیے قبولیت رکھ دی جاتی ہے۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع محبت الٰہی ہے۔ متن سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ بندے کی حقیقی قدر اللہ کے ہاں محبت سے جڑتی ہے، اور یہ محبت آسمانوں سے زمین تک اثر دکھاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ کسی بندے سے محبت کرے تو جبرائیل علیہ السلام کو بھی اس کی محبت کا حکم دیتا ہے۔
- اہل آسمان کی محبت بھی اللہ کے حکم سے ہوتی ہے۔
- زمین میں قبولیت اللہ کی طرف سے رکھی جاتی ہے۔
- اصل کامیابی اللہ کی محبت پانے میں ہے۔
