صحیح بخاری حدیث ۷۴۸۹ - دشمن کے مقابلے کی دعا
دشمن کے مقابلے کی دعا: غزوہ خندق والی حدیث
صحیح بخاری : ۷۴۸۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۴۸۹
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ : " اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ ، سَرِيعَ الْحِسَابِ ، اهْزِمْ الْأَحْزَابَ ، وَزَلْزِلْ بِهِمْ " ، زَادَ الْحُمَيْدِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي خَالِدٍ ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
عبداللہ بن ابی اوفی روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خندق کے دن فرمایا ”اے اللہ! کتاب قرآن کے نازل کرنے والے، جلد حساب لینے والے، ان دشمن جماعتوں کو شکست دے اور ان کے پاؤں ڈگمگا دے۔“ حمیدی نے اسے یوں روایت کیا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا اور انہوں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے سنا، کہا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔
صحیح بخاری حدیث ۷۴۸۹ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع دعا ہے، خاص طور پر مشکل وقت میں اللہ سے مدد مانگنا۔ عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خندق کے دن دعا فرمائی: اے اللہ! کتاب نازل کرنے والے، جلد حساب لینے والے، ان دشمن جماعتوں کو شکست دے اور ان کے پاؤں ڈگمگا دے۔ اس دعا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کو اس کی شان کے ساتھ پکارا، پھر دشمن کے مقابلے میں مدد مانگی۔ حدیث میں صرف یہی واقعہ اور دعا بیان ہوئی ہے، اس لیے اصل سبق یہی ہے کہ سخت حالات میں بندہ اپنی طاقت پر نہیں اتراتا بلکہ اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔ یہ جنگ کی دعا ہے، عام ذاتی رنجش یا بدلے کے لیے نہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مشکل اور خوف کے وقت اللہ سے مدد مانگنی چاہیے۔
- دعا میں اللہ کی شان بیان کر کے حاجت پیش کی جا سکتی ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے دشمن کے مقابلے میں اللہ پر بھروسا کیا۔
- حدیث میں بیان دعا خاص جنگی موقع سے متعلق ہے۔
