صحیح بخاری حدیث ۷۴۹۰ - نماز میں درمیانی آواز
نماز میں قرآن کی آواز: درمیانی راستہ اختیار کرنے کی حدیث
صحیح بخاری : ۷۴۹۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۴۹۰
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، عَنْ هُشَيْمٍ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَلا تَجْهَرْ بِصَلاتِكَ وَلا تُخَافِتْ بِهَا سورة الإسراء آية 110 ، قَالَ : " أُنْزِلَتْ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم متوار بمكة ، فكان إذا رفع صوته ، سَمِعَ الْمُشْرِكُونَ فَسَبُّوا الْقُرْآنَ وَمَنْ أَنْزَلَهُ وَمَنْ جَاءَ بِهِ ، فَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى : وَلا تَجْهَرْ بِصَلاتِكَ وَلا تُخَافِتْ بِهَا سورة الإسراء آية 110 لَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ حَتَّى يَسْمَعَ الْمُشْرِكُونَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا عَنْ أَصْحَابِكَ فَلَا تُسْمِعُهُمْ وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلا سورة الإسراء آية 110 أَسْمِعْهُمْ وَلَا تَجْهَرْ حَتَّى يَأْخُذُوا عَنْكَ الْقُرْآنَ " .
ابن عباس روایت:
´ہم سے مسدد نے بیان کیا، ان سے ہشیم بن بشیر نے، ان سے ابی بشر نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے (سورۃ بنی اسرائیل کی) آیت «ولا تجهر بصلاتك ولا تخافت بها» کے بارے میں کہ` یہ اس وقت نازل ہوئی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں چھپ کر عبادت کیا کرتے تھے۔ جب آپ نماز میں آواز بلند کرتے تو مشرکین سنتے اور قرآن مجید اور اس کے نازل کرنے والے اللہ کو اور اس کے لانے والے جبرائیل علیہ السلام کو گالی دیتے (اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی) اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا «ولا تجهر بصلاتك ولا تخافت بها» کہ ”اپنی نماز میں نہ آواز بلند کرو اور نہ بالکل آہستہ یعنی آواز اتنی بلند بھی نہ کر کہ مشرکین سن لیں اور اتنی آہستہ بھی نہ کر کہ آپ کے ساتھی بھی نہ سن سکیں بلکہ ان کے درمیان کا راستہ اختیار کر۔“ مطلب یہ ہے کہ اتنی آواز سے پڑھ کہ تیرے اصحاب سن لیں اور قرآن سیکھ لیں، اس سے زیادہ چلا کر نہ پڑھ۔
صحیح بخاری حدیث ۷۴۹۰ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع نماز میں قراءت کی آواز ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آیت ولا تجهر بصلاتك ولا تخافت بها کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ یہ اس وقت نازل ہوئی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں چھپ کر عبادت کرتے تھے۔ جب آپ نماز میں آواز بلند کرتے تو مشرکین قرآن، اللہ تعالیٰ اور جبرائیل علیہ السلام کے بارے میں بری باتیں کہتے۔ اس لیے حکم آیا کہ نماز میں نہ اتنی آواز بلند کریں کہ مشرکین سن لیں، اور نہ اتنی آہستہ کہ صحابہ بھی نہ سن سکیں۔ مطلب یہ تھا کہ اتنی آواز ہو کہ صحابہ سنیں اور قرآن سیکھیں۔ اس حدیث میں نماز، قرآن کی تلاوت اور مناسب آواز کا صاف سبق ملتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز میں آواز کے معاملے میں اعتدال رکھا جائے۔
- قرآن کی تلاوت ایسی ہو کہ سننے والے سیکھ سکیں۔
- بلا ضرورت آواز بلند کرنے سے نقصان ہو تو اس سے بچا جائے۔
- حدیث میں آیت کی ایک خاص موقع پر وضاحت بیان ہوئی ہے۔
