صحیح بخاری حدیث ۷۴۹۱ - زمانے کو برا نہ کہو

زمانے کو برا نہ کہو: اللہ ہی رات دن کو پھیرتا ہے

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۴۹۱

حَدَّثَنَا الحُمَيْدِيُّ ، حدَّثنا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَال النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَالَ اللَّهُ تَعَالَى : " يُؤْذِينِي ابْنُ آدَمَ يَسُبُّ الدَّهْرَ ، وَأَنَا الدَّهْرُ بِيَدِي الْأَمْرُ أُقَلِّبُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ " .

ابوہریرہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ابن آدم مجھے تکلیف پہنچاتا ہے، زمانہ کو برا بھلا کہتا ہے، حالانکہ میں ہی زمانہ کا پیدا کرنے والا ہوں، میرے ہی ہاتھ میں تمام کام ہیں، میں جس طرح چاہتا ہو رات اور دن کو پھیرتا رہتا ہوں۔“

صحیح بخاری حدیث ۷۴۹۱ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی موضوع اللہ کی تقدیر اور اختیار کو ماننا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کا فرمان بیان کیا کہ ابن آدم مجھے تکلیف پہنچاتا ہے؛ وہ زمانے کو برا بھلا کہتا ہے، حالانکہ میں ہی زمانہ کا پیدا کرنے والا ہوں۔ تمام کام میرے ہاتھ میں ہیں، میں رات اور دن کو جس طرح چاہتا ہوں پھیرتا رہتا ہوں۔ اس حدیث میں صاف تنبیہ ہے کہ مصیبت، تاخیر، بدلتے حالات یا وقت کی سختی پر زمانے کو گالی دینا درست نہیں۔ بندے کو یاد رکھنا چاہیے کہ وقت خود کوئی مستقل طاقت نہیں۔ رات دن کا بدلنا اللہ کے حکم سے ہے۔ اس لیے زبان کو سنبھالنا، شکایت میں حد رکھنا اور اللہ کے اختیار کو ماننا اس حدیث کا صاف پیغام ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • زمانے کو گالی دینا درست طرز عمل نہیں۔
  • رات اور دن کا بدلنا اللہ کے اختیار میں ہے۔
  • حالات کو مستقل طاقت سمجھنے کے بجائے اللہ کو مالک ماننا چاہیے۔
  • زبان سے ایسی بات نہ کہی جائے جو اللہ کی شان کے خلاف ہو۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں