صحیح بخاری حدیث ۷۴۹۹ - تہجد کی دعا
تہجد کی دعا: حمد، ایمان، توکل اور مغفرت کی جامع حدیث
صحیح بخاری : ۷۴۹۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۴۹۹
حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ ، أَنَّ طَاوُسًا أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا تَهَجَّدَ مِنَ اللَّيْلِ ، قَالَ : اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيِّمُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ ، أَنْتَ الْحَقُّ ، وَوَعْدُكَ الْحَقُّ ، وَقَوْلُكَ الْحَقُّ ، وَلِقَاؤُكَ الْحَقُّ ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ ، وَالنَّبِيُّونَ حَقٌّ ، وَالسَّاعَةُ حَقٌّ ، اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ ، وَبِكَ آمَنْتُ ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ ، وَبِكَ خَاصَمْتُ ، وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ ، فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ ، أَنْتَ إِلَهِي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ " .
عبداللہ بن عباس روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات میں تہجد پڑھنے اٹھتے تو کہتے «اللهم لك الحمد أنت نور السموات والأرض، ولك الحمد أنت قيم السموات والأرض، ولك الحمد أنت رب السموات والأرض، ومن فيهن أنت الحق، ووعدك الحق وقولك الحق، ولقاؤك الحق، والجنة حق، والنار حق، والنبيون حق، والساعة حق، اللهم لك أسلمت، وبك آمنت، وعليك توكلت، وإليك أنبت، وبك خاصمت، وإليك حاكمت، فاغفر لي ما قدمت وما أخرت، وما أسررت وما أعلنت، أنت إلهي، لا إله إلا أنت» ”حمد تیرے ہی لیے ہے کہ تو آسمان و زمین کا نور ہے، حمد تیرے ہی لیے ہے کہ تو آسمان و زمین کا تھامنے والا ہے، حمد تیرے ہی لیے ہے کہ تو آسمان و زمین کا اور جو کچھ اس میں ہے سب کا رب ہے۔تو سچ ہے، تیرا وعدہ سچا ہے اور تیرا قول سچا ہے، تیری ملاقات سچی ہے، جنت سچ ہے اور دوزخ سچ ہے، سارے انبیاء سچے ہیں اور قیامت سچ ہے۔ اے اللہ! میں تیرے سامنے ہی جھکا، تجھ پر ایمان لایا، تجھ پر بھروسہ کیا، تیری ہی طرف رجوع کیا، تیرے ہی سامنے اپنا جھگڑا پیش کرتا اور تجھ ہی سے اپنا فیصلہ چاہتا ہوں، پس تو میری مغفرت کر دے اگلے پچھلے تمام گناہوں کی جو میں نے چھپا کر کئے اور جو ظاہر کئے، تو ہی میرا معبود ہے، تیرے سوا اور کوئی معبود نہیں۔“
صحیح بخاری حدیث ۷۴۹۹ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع تہجد کی دعا ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات میں تہجد کے لیے اٹھتے تو ایک جامع دعا پڑھتے۔ اس دعا میں اللہ کی حمد ہے کہ وہ آسمان و زمین کا نور، قائم رکھنے والا اور رب ہے۔ پھر اقرار ہے کہ اللہ حق ہے، اس کا وعدہ حق ہے، اس کا قول حق ہے، اس کی ملاقات حق ہے، جنت حق ہے، دوزخ حق ہے، انبیاء حق ہیں اور قیامت حق ہے۔ اس کے بعد بندہ کہتا ہے کہ میں تیرے سامنے جھکا، تجھ پر ایمان لایا، تجھ پر بھروسا کیا اور تیری طرف رجوع کیا۔ آخر میں اگلے پچھلے، چھپے اور ظاہر گناہوں کی مغفرت مانگی گئی۔ یہ دعا تہجد کو ایمان اور معافی کے ساتھ جوڑتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- تہجد کے وقت اللہ کی حمد اور اس کے حق ہونے کا اقرار کیا گیا۔
- دعا میں ایمان، توکل، رجوع اور مغفرت سب شامل ہیں۔
- بندہ اپنے چھپے اور ظاہر گناہوں کی معافی مانگتا ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم تہجد میں اللہ کے سامنے عاجزی سے دعا کرتے تھے۔
