صحیح بخاری حدیث ۷۵۰۰ - عائشہ رضی اللہ عنہا کی براءت

عائشہ رضی اللہ عنہا کی براءت: واقعہ افک کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۵۰۰

حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ النُّمَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ الْأَيْلِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، وَسَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، وَعَلْقَمَةَ بْنَ وَقَّاصٍ ، وَعُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ حَدِيثِ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حِينَ قَالَ لَهَا أَهْلُ الْإِفْكِ مَا قَالُوا ، فَبَرَّأَهَا اللَّهُ مِمَّا قَالُوا وَكُلٌّ حَدَّثَنِي ، طَائِفَةً مِنَ الْحَدِيثِ الَّذِي حَدَّثَنِي عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " وَلَكِنِّي وَاللَّهِ مَا كُنْتُ أَظُنُّ أَنَّ اللَّهَ يُنْزِلُ فِي بَرَاءَتِي وَحْيًا يُتْلَى ، وَلَشَأْنِي فِي نَفْسِي كَانَ أَحْقَرَ مِنْ أَنْ يَتَكَلَّمَ اللَّهُ فِيَّ بِأَمْرٍ يُتْلَى ، وَلَكِنِّي كُنْتُ أَرْجُو أَنْ يَرَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّوْمِ رُؤْيَا يُبَرِّئُنِي اللَّهُ بِهَا ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى : إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالإِفْكِ سورة النور آية 11 الْعَشْرَ الْآيَاتِ " .

عروہ بن زبیر ‘ سعید بن مسیب، علقمہ بن وقاص اور عبیداللہ بن عبداللہ روایت:

´ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبداللہ بن عمر نمیری نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یونس بن یزید ایلی نے بیان کیا، کہا کہ میں نے زہری سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے عروہ بن زبیر ‘ سعید بن مسیب، علقمہ بن وقاص اور عبیداللہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہم سے سنا،` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں جب تہمت لگانے والوں نے ان پر تہمت لگائی تھی اور اللہ نے اس سے انہیں بَری قرار دیا تھا۔ ان سب نے بیان کیا اور ہر ایک نے مجھ سے عائشہ رضی اللہ عنہا کی بیان کی ہوئی بات کا ایک حصہ بیان کیا۔ام المؤمنین نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے یہ خیال نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ میری پاکی بیان کرنے کے لیے وحی نازل کرے گا جس کی تلاوت ہو گی۔ میرے دل میں میرا درجہ اس سے بہت کم تھا کہ اللہ میرے بارے میں (قرآن مجید میں) وحی نازل کرے گا جس کی تلاوت ہو گی، البتہ مجھے امید تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی خواب دیکھیں گے جس کے ذریعہ اللہ میری برات کر دے گا، لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ آیات «إن الذين جاءوا بالإفك‏» نازل کی ہیں، دس آیات۔

صحیح بخاری حدیث ۷۵۰۰ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع عائشہ رضی اللہ عنہا کی براءت ہے۔ روایت میں اس واقعہ کا حصہ بیان ہوا ہے جب تہمت لگانے والوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگائی، پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں اس بات سے پاک قرار دیا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ مجھے یہ گمان نہیں تھا کہ اللہ میرے بارے میں ایسی وحی نازل کرے گا جس کی تلاوت کی جائے گی۔ وہ اپنے دل میں اپنا درجہ اس سے کم سمجھتی تھیں، البتہ امید رکھتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی خواب دیکھیں گے جس کے ذریعے اللہ ان کی براءت ظاہر کر دے گا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے سورۃ النور کی آیات إن الذين جاءوا بالإفك نازل فرمائیں۔ حدیث میں اللہ کی طرف سے براءت اور عائشہ رضی اللہ عنہا کی عاجزی دونوں سامنے آتے ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • عائشہ رضی اللہ عنہا کی پاکی اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے بیان کی۔
  • تہمت کا معاملہ بہت سنگین ہے، جیسا کہ واقعہ افک سے معلوم ہوتا ہے۔
  • عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے بارے میں عاجزی کا اظہار کیا۔
  • اللہ جسے چاہے حق کے ساتھ پاک قرار دے دیتا ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں